ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 383

مگر قرآن شریف ہر موقع او رمحل پرحکمت اور وسط کی تعلیم دیتا ہے جہاں دیکھو جس بارہ میں قرآن کی تعلیم پر نگاہ کرو تو معلوم ہو گا کہ وہ محل اور موقع کا سبق دیتا ہے اگر چہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ نفس تعلیم سب کا ایک ہی ہے لیکن اس میں کسی کو انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ توریت اور انجیل میں سے ہر ایک کتاب نے ایک ایک پہلو پر زور دیا ہے مگر فطرت انسانی کے تقاضے کے موافق صرف قرآن شریف نے تعلیم دی ہے۔یہ کہنا کہ توریت کی تعلیم افراط کے مقام پر ہے اس لئے وہ خدا کی طرف سے نہیں یہ صحیح نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ اس وقت کی ضرورتوں کے لحاظ سے ایسی تعلیم بیکار تھی اور چونکہ توریت یا انجیل قانون مختص المقام کی طرح تھیں اس لئے ان تعلیموں میں دوسرے پہلوئوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا لیکن قرآن شریف چونکہ تمام دنیا اور تمام نوع انسان کے واسطے تھا اس لئے اس تعلیم کو ایسے مقام پر رکھا جو فطرت انسانی کے صحیح تقاضوں کے موافق تھی اور یہی حکمت ہے کیونکہ حکمت کے معنے ہیں وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ مَـحَلِّہٖ یعنی کسی چیز کو اس کے اپنے محل پر رکھنا پس یہ حکمت قرآن شریف نے ہی سکھائی ہے۔توریت جیسا کہ بیان کیا ہے ایک بے جا سختی پر زور دے رہی تھی اور انتقامی قوت کو بڑھاتی تھی اور انجیل بالمقابل بے ہودہ عفو پر زور مارتی تھی قرآن شریف نے ان دونوں کو چھوڑ کر حقیقی تعلیم دی جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ( الشورٰی:۴۱) یعنی بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص معاف کر دے اور اس معاف کرنے میں اصلاح مقصود ہو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔۱ قرآن شریف کی تعلیم کا حکیمانہ نظام اب اس تعلیم پر نگاہ کرو کہ نہ یہ توریت کی طرح محض انتقام پر ہی زور دیتی ہے اور نہ انجیل کی طرح ایسے عفو پر جو بسا اوقات خطرناک نتائج کا موجب ہو سکتا ہے بلکہ قرآن شریف کی تعلیم حکیمانہ نظام اپنے اندر رکھتی ہے مثلاً ایک خدمت گار ہے جو بڑا شریف اور نیک چلن ہے کبھی اس نے خیانت نہیں کی اور کوئی نقصان نہیں کیا اگر اتفاقاً وہ چاء پلانے کے لئے آئے اور اس کے ہاتھ سے پیالیاں گر کر