ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 375

ہی خوش خط لکھا ہوا تھا اور میرے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کا لکھا ہوا تھا۔میں نے اس پروانہ کو جب پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا۔’’عدالت عالیہ نے اسے بَری کیا ہے۔‘‘ فرمایا۔اس سے پہلے کئی دن ہوئے یہ الہام ہوا تھا۔رَشَنَ الْـخَبَـرُ(رشن نا خواندہ مہمان کو کہتے ہیں) ۱۹؍نومبر ۱۹۰۱ء ختم نبوت کا منکر کون ہے؟ فرمایا کہ تعجب کی بات ہے یہ لوگ اسے دعویٰ جدید کہتے ہیں۔براہین میں ایسے الہامات موجود ہیں جن میں نبی یا رسول کا لفظ آیا ہے۔چنانچہ ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی اور جَرِیُّ اللہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآءِ وغیرہ ان پر غور نہیں کرتے اور پھر افسوس یہ نہیں سمجھتے کہ ختم نبوت کی مہر مسیح اسرائیلی کے آنے سے ٹوٹتی ہے یا خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے۔ختم نبوت کا انکار وہ لوگ کرتے ہیں جو مسیح اسرائیلی کو آسمان سے اتارتے ہیں اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں نہ نیا نبی نہ پرانا نبی بلکہ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔کیا اگر ایک شیشہ میں حافظ صاحب اپنی تصویر دیکھیں تو کیا عورتوں کو پردہ کر لینا چاہیے کہ یہ کون غیر محرم گھس آیا۔آپ ان کو خوب مفصل اور واضح خط لکھیں۔حقیقت و استعارہ پھر فرمایا۔انبیاء علیہم السلام کے آنے کے وقت لوگوں کے حالات دو قسم کے ہوتے ہیں۔وہ استعارات کو حقیقت پر محمول کرنا چاہتے ہیں اور حقیقت کو استعارہ بنانا چاہتے ہیں۔یہی مصیبت اب ان کو پیش آئی ہے۔یہ کوئی ایسا دجّال دیکھنا چاہتے ہیں جس کی آنکھ در حقیقت باہر نکلی ہوئی ہو اور پورے ستر گز کا اس کا گدھا ہو اور آسمان سے حضرت عیسیٰ کبوتر کی طرح منڈلاتے ہوئے اتریں۔یہ کبھی ہونا ہی نہ تھا۔یہودیوں کو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت یہی مصیبت پیش آئی۔وہ یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ مسیح سے پہلے جیسا کہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا ہے آسمان سے ایلیا اترے گا چنانچہ جب مسیح آیا تو انہوں نے یہی اعتراض کیا مگر مسیح نے ان کو