ملفوظات (جلد 2) — Page 370
پر کیوں اطلاع نہیں پاتا میں کہتا ہوں کہ دیکھو! ہمارے حواس کے کام الگ الگ ہیں مثلاً آنکھ دیکھ سکتی ہے زبان چکھ سکتی ہے اور بول سکتی ہے کان سن سکتے ہیں گویاہر ایک حواس میں سے اپنے اپنے فرائض اور قوت کے ذمہ وار ہیں۔یہ کبھی نہیںہو سکتا ہے کہ کان کے پاس مصری کی ڈلی رکھ دی جاوے اور وہ اس کا ذائقہ بتا دے اور آنکھ خارجی آوازیں سن لے یا زبان دیکھ لے پس اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی معرفت کے دقیق اسرار کو معلوم کرنے کے واسطے خاص قویٰ ہیں وہی ان پر اطلاع دے سکتے ہیں اور یہ قویٰ دئیے تو سب کو گئے ہیں لیکن ان سے کام لینے والے بہت تھوڑے ہیں۔ظن کا کو ئی قوی اثر نہیں ہوسکتا۔یہی وجہ ہے کہ فلاسفروں کی ایمانی حالت بہت ہی کمزور ہوتی ہے اور وہ ظنّیات سے آگے نہیں بڑھتے۔افلاطون جو بڑا مدبّر اور دانش مند سمجھا جاتا تھا جب مرنے لگا تو اس نے یہی کہا کہ فلاں بت پر اس کے لئے ایک مرغ چڑھا دینا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسا کمزور ایمان تھا توحید پر قائم نہ ہوا۔صحبت صالحین پس وہ عظیم الشان ذریعہ جس سے ایک چمکتا ہوا یقین حاصل ہو اور خدا تعالیٰ پر بصیرت کے ساتھ ایمان قائم ہو ایک ہی ہے کہ انسان ان لوگوں کی صحبت اختیار کرے جو خدا تعالیٰ کے وجود پر زندہ شہادت دینے والے ہوں خود جنہوں نے اس سے سن لیا ہے کہ وہ ایک قادر مطلق اور عالم الغیب تمام صفات کاملہ سے موصوف خدا ہے۔ابتدا میں جب انسان ایسے لوگوں کی صحبت میں جاتا ہے توا س کی باتیں بالکل انوکھی اور نرالی معلوم ہوتی ہیںوہ بہت کم دل میں جاتی ہیں گو دل ان کی طرف کھنچا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اندر کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے ان معرفت کی باتوں کی ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے جو کچھ گرد و غبار دل پر بیٹھا ہوتا ہے صادق کی باتیں ان کو دور کر کے اسے جلا دینا چاہتی ہے تا اس میں یقین کی قوت پیدا ہو جیسے جب کبھی کسی آدمی کو مسہل دیا جاتا ہے تو دست آور دوائی پیٹ میں جا کر ایک گڑگڑاہٹ سی پیدا کر دیتی ہے اور تمام مواد ردّیہ اور فاسدہ کو حرکت اور جوش دے کر باہر نکالتی ہیں اسی طرح پر صادق ان ظنّیات کو دور کرنا چاہتا ہے اور سچے علوم اور اعتقاد صحیحہ کی معرفت کرانی چاہتا ہے اور وہ باتیں اس دل کو جس نے بہت بڑا زمانہ ایک اور ہی دنیا میں بسر کیا ہوا ہوتا ہے ناگوار اور ناقابل عمل معلوم ہوتی ہیں