ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 360

میں خارق عادت امور کا مشاہدہ کروا سکتا ہوں ایک عیسائی سے اگر پوچھا جائے کہ تو جو دعویٰ کرتا ہے کہ مسیح کے خون سے میرے گناہ پاک ہو گئے ہیں تیرے پاس اس کا کیا ثبوت ہے ؟ وہ کون سے فوق العادت امور تجھ میں پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے ایک غیر معمولی خدا ترسی اور نکو کاری کی روح تجھ میں پھونک دی ہے تو وہ کچھ جوا ب نہ دے سکے گا۔برخلاف اس کے اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں اس کو ان خارق عادت امور کا زبر دست ثبوت دے سکتا ہوں اور اگر کوئی طالب صادق ہو اور ا س میں شتاب کاری اور بدظنی کی قوت بڑھی ہوئی نہ ہو تو میں اسے مشاہدہ کرا سکتا ہوں۔بعض امور ایسے ہو تے ہیں کہ اگر ان کے دلائل نہ بھی ملیں تو ان کی تاثیرات بجائے خود انسان کو قائل کر دیتی ہیں اور وہی تاثیرات دلائل کے قائم مقام ہو جاتی ہیں۔کفارہ کے حق ہونے کے اگر دلائل عیسائیوں کے پاس نہیں ہیں جیسا کہ وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ بھی ایک راز ہے تو ہم پوچھتے ہیں کہ وہ ان تاثیرات ہی کو پیش کریں جو کفارہ کے اعتقاد نے پیدا کی ہیں۔یورپ کی اباحتی زندگی دور سے ان تاثیرات کا نمونہ دکھا رہی ہے اس سے بڑھ کر وہ کیا پیش کریں گے اور یہ ایک عقل مند کے سمجھ لینے کے واسطے کافی ہے کہ کیا اثر ہوا؟ ایک اور بات ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہے جس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے بعض آدمیوں کو بڑے بڑے دھوکے لگے ہیں اور وہ جادۂ مستقیم سے بھٹک گئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان کی پیدائش ایک قسم کی نہیں ہے۔جیسا بوٹیاں ہزاروں قسم کی ہوتی ہیں اور جمادات میں بھی مختلف قسمیں پائی جاتی ہیں۔کوئی چاندی کی کان ہے کوئی سونے کی کوئی پیتل اور لوہے کی اسی طرح پر انسانی فطرتیں مختلف قسم کی ہیں۔بعض انسان اس قسم کی فطرت رکھتے ہیں کہ وہ ایک گناہ سے نفرت کرتے ہیں اور بعض کسی اور قسم کے گناہ سے مثلاً ایک آدمی ہے کہ وہ چوری تو کبھی نہیں کرتا لیکن زنا کاری اور اَور قسم کی بے حیائی اور بے باکی کرتا ہے یا ایک زنا سے تو بچتا ہے لیکن کسی کا مال مار لینے یا خون کردینے کو گناہ ہی نہیں سمجھتا اور بڑی دلیری