ملفوظات (جلد 2) — Page 356
کیا عجب آپ کو فائدہ پہنچے اور چونکہ آپ سفر کرتے رہتے ہیں اور مختلف آدمیوں سے ملنے کا آپ کو اتفاق ہوتا ہے آپ ان سے اسے ذکر بھی کر سکتے ہیںاور اگر یہ طریق جو میں پیش کرتا ہوں آپ کے نزدیک صحیح نہیں ہے تو میں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ آپ جس قدر چاہیں جرح کریں یہ میری طرف سے آپ کو ایک تحفہ ہے اور میں ایسے تحفے دے سکتا ہوں۔ہر شخص جو دنیا میں آتا ہے اس کا فرض ہونا چاہیے کہ دھوکے اور خطرہ سے بچے۔پس گناہ کے نیچے ایک خطرناک اور تمام خطروں اور دھوکوںسے بڑھ کرایک دھوکاہے۔میں آگاہ کرتا ہوں کہ اس سے بچنا چاہیے اور یہ بھی بتاتا ہوں کہ کیونکر بچنا چاہیے۔اگرچہ اس سے پہلے ایک اور مسئلہ بھی ہے جو خدا کی ہستی کے متعلق ہے مگر میں سردست اس کو چھوڑتا ہوں اور اس دوسرے مقصد کو لیتا ہوں جس کا ماحصل اور مدعا یہ ہے کہ ہر ایک آدمی بجائے خود نیک بننا چاہتا ہے اور نیکی کو اچھا سمجھتا ہے اختلاف اگر ہے تو ان طریقوں اور حیلوں میں ہے جو نیکی کے حصول کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں مگر مشترک طور پر نفسِ نیکی کو سب پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں۔جھوٹ بولنا کون پسند کرتا ہے جذبات نفسانی سے بچنے کو اچھا کہتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیںکہ باوجودبدیوں کو بدی سمجھنے کے بھی ایک دنیا ان میں گرفتار ہے اور گناہ کے سیلاب میں بہتی ہوئی جا رہی ہے۔میں مثال کے طورپر کہتا ہوں کہ عیسائیوں نے انسان کی گنہ گار زندگی کو ہلاک کرکے نیکی اور پاکیزگی کی زندگی کے حصول کے لئے یہ راہ بتائی ہے کہ مسیح ہمارے لئے مَر گیا اور ہمارے گناہوں کا بوجھ اس نے اٹھا لیا اور اس کے خون سے ہم پاک ہو گئے مگر میں دیکھتا ہوں اور آپ کو بھی اقرار کرنا پڑے گا کہ مسیح کے خون نے یورپ کی حالت پر کوئی نمایاں اثر اور تبدیلی پیدا نہیں کی بلکہ ان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر نظر کرکے سخت افسوس ہوتا ہے ان کی زندگی مرتاضانہ زندگی نہیں ہے بلکہ ایک آزادی اور اباحت کی زندگی ہے۔کتنے ہیں جو سرے سے خدا ہی کے منکر ہیں اور بہت ہیں جو خدا کو مان کر اور مسیح ؑکے خون پر ایمان رکھتے ہوئے بھی اپنی حالت میں گرے ہوئے ہیں۔شراب کی وہ کثرت ہے جو کئی کئی میل تک شراب کی دکانیں چلی جاتی ہیں اور نامحرم عورتوں کو شہوت کی نظر سے نہ دیکھنا تو کیا ان کے دوسرے اعضا بھی نہ بچ سکے۔میں عیسائیوں