ملفوظات (جلد 2) — Page 345
خاطر اس نے سب سے ہجرت کی۔دراصل یہ آنحضرتؐکی روحانیت کا زور تھا جو صحابہؓ میں داخل ہوا۔اُن کا کوئی جھوٹ ثابت نہیں۔ہر امر میں ایک کشش ہوتی ہے۔دیکھو! دیوار کی اینٹوں میں ایک کشش ہے ورنہ اینٹ اینٹ الگ ہو جائے۔ایسی ہی ایک جماعت میں ایک کشش ہوتی ہے۔یہ ہوتا آیا ہے کہ ہر نبی کی جماعت میں سے کچھ لوگ مرتد بھی ہو جایا کرتے ہیں ایسا ہی موسیٰ اور عیسیٰ اور آنحضرتؐکی جماعت کے ساتھ ہوا۔ان لوگوں کا مادہ خبیث ہوتا ہے اور ان کا حصہ شیطان کے ساتھ ہوتا ہے مگر جو لوگ اس صداقت کے وارث ہوتے ہیں وہ اس میں قائم رہتے ہیں۔غرض خدا کی راہ میں شجاع بنو۔انسان کو چاہیے کبھی بھروسہ نہ کرے کہ ایک رات میں زندہ رہوں گا۔بھروسہ کرنے والا ایک شیطان ہوتا ہے۔انسان بہادر بنے۔یہ بات زورِ بازو سے نہیں ملتی۔دعا کرے اور دعا کراوے۔صادقوں کی صحبت اختیار کرے۔سارے کے سارے خدا کے ہو جاؤ۔دیکھو! کوئی کسی کی دعوت کرے اور نجس ٹھیکرے میں روٹی لے جائے۔اسے کون کھائے گا۔وہ تو الٹا مار کھائے گا۔باطن بھی سنوارو اور ظاہر بھی درست کرو۔انسان اعمال سے ترقی نہیں کر سکتا۔آنحضرتؐکا رتبہ سمجھنے سے ترقی کر سکتا ہے۔۱ ۱۶؍نومبر ۱۹۰۱ء معجزہ اسلام کی پہلی اینٹ ہے فرمایا۔افسوس ہے ان لوگوں نے اسلام کو بد نام کیا ہے۔جس بات کو سمجھتے نہیں اس میں یورپ کے فلاسفروں کی چند بے معنی کتابیں پڑھ کر دخل دیتے ہیں۔معجزات اور مکالمات ِالٰہیہ ہی ایسی چیزیں ہیں جن کا مردہ۔ملّتوں میں نام ونشان نہیں ہے۔اور معجزہ تو اسلام کی پہلی اینٹ ہے اور غیب پر ایمان لانا سب سے اوّل ضروری ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے خیالات دہریت کا نتیجہ ہیں جو خطر ناک طور پر پھیلتی جاتی ہے۔سید احمد نے وحی کی حقیقت خود بھی نہیںسمجھی۔دل سے پھوٹنے والی وحی شاعروں کی