ملفوظات (جلد 2) — Page 335
یہاں تک حضرت اقدس نے تقریر فرمائی تھی کہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے عرض کیا کہ حضور یہ جو عیسائی بعض انبیاء علیہم السلام کی زَلَّۃُ الْاَقْدَام کو قرآن شریف سے بیان کرتے ہیں اس کا کیا جواب دیا جائے۔گناہ کی تعریف فرمایا۔یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔گناہ کی تعریف میں انہوں نے دھوکا کھایا ہے۔گناہ اصل میں جناح سے لیا گیا ہے اور ج کا تبادلہ گ سے کیا گیا ہے جیسے فارسی والے کر لیتے ہیں اور جناح اصل میں عمداً کسی طرف میل کرنے کو کہتے ہیں پس گناہ سے یہ مراد ہے کہ عمداً بدی کی طرف میل کیا جاوے پس میں ہرگز نہیں مان سکتا کہ انبیاء علیہم السلام سے یہ حرکت سرزد ہو اور قرآن شریف میں اس کا ذکر بھی نہیں۔انبیاء علیہم السلام سے گناہ کا صدور اس لئے ناممکن ہے کہ عارفانہ حالت کے انتہائی مقام پر وہ ہوتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ عارف بدی کی طرف میل کرے۔اس پر پوچھا گیا کہ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ کے کیا معنے ہیں تو فرمایا کہ عَصٰی سے عمد تو نہیں پایا جاتا کیونکہ دوسری جگہ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا(طٰہٰ:۱۱۶) عَصٰی سے یاد آیا میرا ایک فقرہ ہے اَلْعَصَا عِلَاجُ مَنْ عَصٰی اس سے معلوم ہوتا کہ جلالی تجلیات ہی سے انسان گناہ سے بچ سکتا ہے۔۱ ۴؍نومبر ۱۹۰۱ء آج پھر حسب معمول حضرت اقدس ؑ سیر کو نکلے۔اکثر احباب حضور کے ہمراہ تھے۔انگریزی رسالہ کا ذکر ہوتا رہا۔اسی سلسلہ میں فرمایا کہ مَیں یقین کرتا ہوں کہ جس قدر وقت میرا گزرتا ہے وہ سب عبادت ہی ہے اس لئے کہ اگر کوئی