ملفوظات (جلد 2) — Page 334
بات ہے کہ ایک زہریلے اور وبائی مرض کے بعد انسان کو اعلی درجہ کی صحت تک پہنچنے کے واسطے دو حالتوں میں سے گزرنا ہوتا ہے۔پہلی وہ حالت ہوتی ہے جب کہ زہریلے اور خطرناک مادے رک جاتے ہیں اور ان میں اصلاح کی صورت پیدا ہوتی ہے اور زہریلے حملوں سے نجات ملتی ہے اور وہ مواد دبائے جاتے ہیں مگر اعضا بدستور کمزور ہوتے ہیں اور ان میں کوئی قوت اور سکت نہیں ہوتی جس سے وہ کام کرنے کے قابل ہوں اور ایک ربودگی سی حالت ہوتی ہے یہ وہ حالت ہوتی ہے جس کو کافوری پیالے پینے سے تعبیر کیا گیا ہے۔اس حالت میں گناہ کا زہر دبایا جاتا ہے اور اس جوش کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے جو نفس کی سرکشی اور جوش کی حالت میں ہوتا ہے مگر ابھی نیکی کرنے کی قوت نہیں آتی۔پس دوسری حالت جو زنجبیلی حالت ہے وہ وہی ہے جب کہ صحت کامل کے بعد توانائی اور طاقت آ جائے یہاں تک کہ پہاڑوں پر بھی چڑھ سکے۔اورزنجبیل بجائے خود چونکہ حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس ذکر سے بتایا کہ پہلے مومنوں کے گناہوں کی حالت پر موت آتی ہے اور پھر انہیں نیکی کی توفیق اور قوت ملتی ہے۔گناہ کی حالت میں انسان پستی اور ذلت میں ہوتا ہے اور جوں جوں گناہ کرتا جاتا ہے نیچے ہی نیچے چلا جاتا ہے لیکن جب گناہوں پر موت آتی ہے تو وہ اس پستی کے گڑھے میں ہی پڑا ہوا ہوتا ہے جب تک اوپر چڑھنے کے لئے اسے زنجبیلی شربت نہ ملے۔پس نیکیوں کی توفیق عطا ہونے پر وہ پھر اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے اور یہ پہاڑی گھاٹیاں وہی ہیں جو صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ( الفاتـحۃ :۷ ) میں بیان ہوئی ہیں۔خدا تعالیٰ کے راست بازوں اور منعم علیہ کی راہ ہی وہ اصل مقصود ہے جوا نسان کے لئے خدا تعالیٰ نے رکھا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ واحد ہے اور وحدت کو پیار کرتا ہے اس لئے سب کام وحدت ہی کے ذریعہ کرتا ہے۔وہ اگر چاہتا تو سب کو نبی بنا دیتا مگر یہ امر وحدت کے خلاف تھا اس لیے ایسا نہیں کیا تاہم اس میں بخل بھی نہیں ہے ہر ایک شخص جو اس راہ کو اختیار کرنے کے لئے سچا مجاہدہ کرتا ہے وہ اس کا لطف اور ذوق اٹھا لیتا ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ امت میں ابدال ہوتے ہیں جن کی فطرت کو بدلا دیا جاتا ہے اور یہ تبدیلی اتباع سنّت اور دعائوں سے ملتی ہے۔