ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 330

اور چمکتا ہوا یقین خدا پر ہو وہاں ممکن نہیں کہ گناہ رہے۔انسانی فطرت میں یہ خاصہ جب کہ موجود ہے کہ سچی معرفت نقصان سے بچا لیتی ہے جیسے کہ سانپ یا شیر یا زہر کی مثال سے بتایا گیا ہے پھر یہ بات کیوں کر درست ہو سکتی ہے کہ ایمان بھی ہو اور گناہ بھی دور نہ ہو۔میں دیکھتا ہوں کہ ان فری میسنوں میں محض ایک رعب کا سلسلہ ان کے اسرار کے اظہار سے روکتا ہے اور کچھ نہیں۔پھر خدا کی عظمت و جبروت پر ایمان گناہ سے نہیں بچا سکتا ؟بچا سکتا ہے اور ضرور بچا سکتا ہے۔پس گناہ سے بچنے کے لئے حقیقی راہ خدا کی تجلیات ہیں اورا س آنکھ کو پیدا کرنا شرط ہے جو خدا کی عظمت کو دیکھ لے اورا س یقین کی ضرورت ہے جو گناہ کے زہر پر پیدا ہو۔زمین سے تاریکی پیدا ہوتی ہے اور آسمان اس تاریکی کو دور کرتا ہے اور ایک روشنی عطا کرتا ہے زمینی آنکھ بے نور ہوتی ہے جب تک آسمانی روشنی کا طلوع اور ظہور نہ ہو اس لئے جب تک آسمانی نور جو نشانات کے رنگ میں ملتا ہے کسی دل کو تاریکی سے نجات نہ دے انسان اس پاکیزگی کو کب پا سکتا ہے جو گناہ سے بچنے میں ملتی ہے۔پس گناہوں سے بچنے کے لئے اس نور کی تلاش کرنی چاہیے جو یقین کی روشنی کے ساتھ آسمان سے اترتا ہے اور ایک ہمت ، قوت عطا کرتا ہے اور تمام قسم کے گردو غبار سے دل کو پاک کرتا ہے اس وقت انسان گناہ کے زہر ناک اثرکو شناخت کر لیتا اورا س سے دور بھاگتا ہے جب تک یہ حاصل نہیں گناہوں سے بچنا محال ہے۔یہ طریق ہے جو ہم پیش کرتے ہیں اس پر اگر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے تو بے شک ہم ہر ایک شخص کو اجازت دیتے ہیںکہ وہ ہمارے سامنے اس کو بیان کرے تا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی عیسائی کے سامنے اس اصل کو بیان کرے اور پھر اس کا کوئی اعتراض سن کر شرمندہ ہو جو اعتراض اس پر ہو سکتا ہے بے شک کیا جاوے۔یہ سن کر خاکسار ایڈیٹر الحکم نے اتنا عرض کیا کہ حضور اب یہ سوال باقی رہتا ہے کہ جب گناہوں سے بچنے کے لیے سچی معرفت اور چمکتےہوئے یقین کی ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ کی عظمت اور گناہ کے خطرناک زہر پر آگاہ کرے تو وہ یقین پیدا کیونکر ہو؟