ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 328

نہیں ہوا بلکہ اپنی رو میں اس نے پہلے بندوں کو بھی توڑ دیا اور پوری آزادی اور اباحت کے قریب پہنچا دیا۔گناہ سے بچنے کا طریق اب سوال یہ ہوتا ہے کہ کفارہ تو بے شک گناہوں سے بچا نہیں سکتا۔مگر کیا کوئی اَور طریق ہے بھی جس سے انسان گناہوںسے بچ جاوے ؟میں کہتا ہوں کہ ہاںعلاج ہے اور ضرور ہے اور وہ علاج یقینی علاج ہے مگر جیسے سچی باتوں کے ساتھ مشکلات ہوتے ہیں ویسے ہی یہ علاج بھی مشکلات سے خالی نہیں۔یہ یاد رکھو کہ جھوٹ کے ساتھ مشکلات نہیں ہوتی ہیں مثلاً ایک کیمیا گر جو یہ کہتا ہے کہ میں ایک دم میں ایک ہزار کا دو ہزار بنا دیتا ہوں وہ مشکلات اس فعل کے لئے نہیں رکھتا لیکن ایک زمیندار کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہوتا ہے یا ایک تاجر کو اپنے مال کو کس طرح خطرہ میں ڈالنا پڑتا ہے ایسا ہی ایک ملازم قسم قسم کی پابندیوں اور ماتحتیوں کے نیچے آ کر کن مشکلات میں ہے پس تم سہل باتوں سے ڈرو جو پھونک مار کر سب کچھ بنا دینا چاہتے ہیں وہ خطرنا ک عیار ہیں۔میرا مطلب ہے کہ عیسائیوں کا گناہ کا علاج تو بجز اباحت کے اور کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔عیسائی باش ہر چہ خواہی بکن۔اور یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ کے اعتقاد کی وجہ سے دہریت کی رگ پیدا ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہےکہ انسان گناہ پر دلیر ہو جاتا ہے اور جس قدر سم الفار کی مہلک تاثیر کی ہیبت اس کو اس کے کھانے سے باز رکھتی ہے اس قدر بھی خدا کی ہیبت اس کو نافرمانی سے نہیں روکتی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ خدا کی عظمت اس کی ہیبت ، جلال اور اقتدار سے بے خبر ہے تب ہی تو نافرمانی اور سرکشی کو ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور گناہ پر دلیر ہو جاتا ہے ا ور نہیں ڈرتا۔ادنیٰ درجہ کے حکام اور ان کے چپراسیوں تک کی نافرمانی سے اس کی جان گھٹ جاتی ہے مگر خدا کی نافرمانی سے اس کے دل پر لرزہ نہیں پڑتا کیونکہ خدا شناسی کی معرفت اسے نہیں ملی۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ گناہ کا علاج جو ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں سوا اس کے