ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 327

جز لکھ دے تیرا علاج یہی ہے تو کون عقل مند اس علاج کو قبول کرے گا۔پس مسیح کے خون اور گناہ کے علاج میں اگر یہی رشتہ نہیں ہے تو اور کون سا رشتہ ہے یا یوں کہو کہ ایک شخص کے سر میں درد ہوتا ہو اور دوسرا آدمی اس پر رحم کھا کر اپنے سر میں ایک پتھر مار لے اور اس کے درد سر کا اسے علاج تجویز کر لے یہ کیسی ہنسی کی بات ہے پس ہمیں کوئی بتا وے کہ عیسائیوں نے ہمارے سامنے پیش کیا کِیا ہے۔جو کچھ وہ پیش کرتے ہیں وہ تو ایک قابل شرم بناوٹ ہے گناہوں کا علاج کیا؟ یسوع کی خود کشی جس کو گناہوں سے پاک ہونے کے واسطے کوئی حقیقی رشتہ بھی نہیں ہم بارہا حیران ہوتے ہیں کہ حضرت مسیح کو یہ سوجھی کیا؟ جو دوسروں کو نجات دلانے کے لئے آپ صلیب اختیار کی اگر وہ اس صلیب کی موت سے (جو لعنت تک لے جاتی ہے اور عیسائیوں کے قول اور اعتقاد کے موافق کفارہ کے لئے لعنتی ہوجانا ضروری ہے کیونکہ وہ گناہوں کی سزا ہے) اپنے آپ کو بچاتے اور کسی معقول طریق پر بنی نوع کو فائدہ پہنچاتے تو وہ اس خود کشی سے بدرجہا بہتر اور مفید ہوتا۔غرض کفارہ کے ابطال پر یہ زبردست دلیل ہے کہ گناہوں کے علاج اور کفارہ میں باہم کوئی رشتہ نہیں ہے۔پھر دوسری دلیل اس کے باطل ہونے پر یہ ہے کہ کفارہ نے اس فطری خواہش کو کہ گناہوں سے انسان بچ جاوے کہاں تک پورا کیا؟ اس کا جواب صاف ہے کہ کچھ بھی نہیں چونکہ تعلق کوئی نہ تھا اس لئے کفارہ گناہوں کے اس جوش او رسیلاب کو روک نہ سکا۔اگر کفارہ میں گناہوں سے بچانے کی کوئی تاثیر ہوتی تو یورپ کے مرد و عورت گناہوں سے ضرور بچے رہتے۔ہر قسم کے گناہ یورپ کے خواص و عوام میں پائے جاتے ہیں اگر کسی کو شک ہو تو وہ لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں میں جا کر دیکھ لے کیا ہوتا ہے۔زنا کی کثرت خوف دلاتی ہے کہ کہیں زنا کے جواز کا ہی فتویٰ نہ ہو جاوے گو عملی طور پر تو نظر آتا ہے۔شراب کا استعمال اس قدر کثرت سے بڑھتا جاتا ہے کہ کچھ روز ہوئے ایک عورت نے کسی ہوٹل میں پینے کو پانی مانگا تو انہوں نے کہا کہ پانی تو برتن دھونے یا نہانے وغیرہ کے کام آتا ہے پینے کے لئے تو شراب ہی ہوتی ہے پس اب غور کر کے دیکھ لو کہ گناہ کے سیلاب کو روکنے کے واسطے خون مسیح کا بندتو کافی