ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 27

ملفوظات حضرت مسیح موعود اس پر آپ نے فرمایا کہ ۲۷ جلد دوم ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اس قدر یقین اور علی وجہ البصیرہ یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو قسم دے دو۔ بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو معاً کافر ہو جاؤں۔ ۱۳ / دسمبر ۱۹۰۰ء الہی بخش لاہوری مخالف کی کتاب عصائے موسیٰ نصرت الہی فیصلہ کن قاضی ہے۔ تمام کمال پڑھ کر حضرت اقدم - پڑھ کر نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کی فضولیات کو چھوڑ کر چند گھنٹوں کا کام ہے اس کا جواب دے دینا لیکن میں محض ترحم سے کچھ مدت تک اس کو چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ لوگ بھی خوش ہو لیں ۔ آخر پرانے رفیق تھے۔ اور نیز اس اثنا میں بہت سے لوگوں کے فہم اور عقلیں اور ایمان ہمیں معلوم ہو جاویں گے کہ کون کون اس پر ریویو کرتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ اور کون کون اس کے وسوسوں سے متاثر ہوتا ہے۔ بہرحال مصلحت یہی ہے کہ ایک وقت تک اس کی طرف سے اغماض کیا جاوے۔ مت سمجھو کہ ہمارے حق میں یہ کتاب شر ہے۔ یقیناً یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ نے اس سے ہماری بڑی خیر کا ارادہ فرمایا ہے۔ آخری فیصلہ کی راہ خدا تعالیٰ کی نصرتوں اور تائیدوں کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ جو اعتراض اس نے ہم پر کیے ہیں وہی نصاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتیات پر کرتے ہیں۔ آخر إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ (الفتح : ۲ ، ۳) - :۲، نے فیصلہ کر دیا کہ سارے جزوی اعتراض باطل تھے۔ حضرت موسیٰ پر آریوں نے کیا کیا اعتراض کیے کہ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۶