ملفوظات (جلد 2) — Page 27
اس پر آپؑ نے فرمایا کہ ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اس قدر یقین اور علیٰ وجہ البصیرۃ یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہوقسم دے دو۔بلکہ میرا تو یقین یہاںتک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروںیا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو معاً کافر ہوجاؤں۔۱ ۱۳؍دسمبر ۱۹۰۰ء نصرتِ الٰہی فیصلہ کن قاضی ہے الٰہی بخش لاہوری مخالف کی کتاب’’عصائے موسیٰ‘‘ تمام وکمال پڑھ کر حضرت اقدس ؑنے فرمایا۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کی فضولیات کو چھوڑ کر چند گھنٹوںکا کام ہے اس کا جواب دے دینا لیکن میں محض ترحم سے کچھ مدت تک اس کو چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ لوگ بھی خوش ہو لیں۔آخر پرانے رفیق تھے۔اور نیز اس اثنا میں بہت سے لوگوں کے فہم اور عقلیں اور ایمان ہمیں معلوم ہو جاویں گے کہ کون کون اس پر ریویو کرتا ہے اور کیا کرتا ہے۔اور کون کون اس کے وسوسوں سے متاثر ہوتا ہے۔بہرحال مصلحت یہی ہے کہ ایک وقت تک اس کی طرف سے اغماض کیا جاوے۔مت سمجھو کہ ہمارے حق میں یہ کتاب شر ہے۔یقیناً یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ نے اس سے ہماری بڑی خیر کا ارادہ فرمایا ہے۔آخری فیصلہ کی راہ خدا تعالیٰ کی نصرتوں اور تائیدوں کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ جو اعتراض اس نے ہم پر کیے ہیں وہی نصاریٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتیات پر کرتے ہیں۔آخر اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ (الفتح:۲ ، ۳) نے فیصلہ کر دیا کہ سارے جزوی اعتراض باطل تھے۔حضرت موسٰی پر آریوں نے کیا کیا اعتراض کیے کہ ۱ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخہ ۱۰ ؍ دسمبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۶