ملفوظات (جلد 2) — Page 26
سے مامور ہو کر آیا ہے۔اگر کوئی شخص خبث کو نہیں چھوڑتاتو کیا ہم اندھے ہیں؟منافق کے دل کی بدبو نہیں سونگھتے؟ہم انسان کو فوراً تاڑ جاتے ہیں کہ اس کی بات اس بنا پر ہے۔پس یاد رکھو! خدا نے یہی راہ پسند کی ہے جو میں بتاتا ہوں اور یہ اقرب راہ اُسی نے نکالی ہے۔دیکھو! جو ریل جیسی آرام دہ سواری کو چھوڑ کر ایک لنگڑے مَریل ٹٹو پر سوار ہوتا ہے،وہ منزل پرنہیں پہنچ سکتا۔افسوس!یہ لوگ خدا کی باتوں کو چھوڑ کر زید، بکر کی باتوںپر مَرتے ہیں۔ان سے پوچھو کہ وہ حدیثیں کس نے دی ہیں؟ میں تو بار بار یہی کہتا ہوں کہ ہمارا طریق تو یہ ہے کہ نئے سر سے مسلمان بنو۔پھر اللہ تعالیٰ اصل حقیقت خود کھول دے گا۔میں سچ کہتا ہوںکہ اگر وہ امام جن کے ساتھ یہ اس قدر محبت کا غُلو کرتے ہیں زندہ ہوں تو اِن سے سخت بیزاری ظاہر کریں۔جب ہم ایسے لوگوں سے اعراض کرتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا اعتراض کیا جس کا جواب نہ آیا اور پھر بعض اوقات اشتہار دیتے پھرتے ہیں۔مگر ہم ایسی باتوں کی کیا پروا کر سکتے ہیں۔ہم کو تو وہ کرنا ہے جو ہمارا کام ہے۔اس لئے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کاجھگڑاچھوڑو۔اب نئی خلافت لو۔ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مُردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔۱ ۸؍ دسمبر۱۹۰۰ء ایک الہام اور اپنی وحی پر یقین فرمایا۔کل رات میری انگلی کے پوٹے میں درد تھا اور اس شدت کے ساتھ درد تھا کہ مجھے خیال آیا تھا کہ رات کیوں کر بسر ہو گی۔آخر ذرا سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا کُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًااور سَلَامًا کا لفظ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ معاً درد جاتا رہا ایسا کہ کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔۱ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ ؍ نومبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۱، ۲