ملفوظات (جلد 2) — Page 318
کتابوں میں پائے جاتے ہیں کیونکہ جب تک وہ ساری باتیں جو ان کی انسانیت کے اثبات پر گواہ ناطق ہیں پیش نہ کی جاویں خیالی طور پر جو کچھ ان کے مراتب میں غلو کیا گیا ہے اس کا استیصال نہ ہوگا اور یہ جوش خدا تعالیٰ نے مجھے محض اس لئے دیا ہے کہ میں دیکھتا ہوں اس اِطراء کا نتیجہ بہت بُرا ہوا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کی گئی اور خدا تعالیٰ کے جلال وجبروت کی کچھ بھی پروا نہیں کی گئی اس لئے یہ سلسلہ میں سمجھتا ہوں بہت مفید ہو گا۔چونکہ اِنَّـمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ہماری نیت نیک ہے اس لئے وہ واقعات جو ہم اس میں درج کریں گے اس لئے نہیں ہوں گے کہ ہم خدا نخواستہ ان کی توہین کرتے ہیں بلکہ صرف اس لئے کہ ان کی انسانیت ان کو دی جائے بلکہ ہم ان اعتراضوں کو جو یہودیوں اور فری تھنکروں نے ان پر کئے ہیں درج کر کے خود ان کا جواب دیں گے۔اس کے بعد چونکہ اذان ہو چکی تھی۔نماز مغرب ادا کی گئی۔بعد نماز مغرب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمایاکہ اعجاز المسیح کی تصنیف یہ کتاب جو میں لکھ رہا ہوں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان نشان ہو گی چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہوئی ہے کہ اُجِیْبُ کُلَّ دُعَا ئِکَ اِلَّا فِیْ شُـرَکَا ئِکَ۔اس لئے مجھے پورا بھروسا اور یقین ہے کہ میری دعائیں کل دنیا سے زیادہ قبول ہوتی ہیں اور اسی لئے یہ کتاب ایک نشان ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا۔ہماری جماعت کے ہاتھ میں یہ زبردست نشان ہو گا۔میں عربوں کے دعویٰ ادب وفصاحت وبلاغت کو بالکل توڑنا چاہتا ہوں۔یہ لوگ جو اخبار نویس ہیں اور چند سطریں لکھ کر اپنے آپ کو اہلِ زبان اور ادیب قرار دیتے ہیں وہ اس اعجاز کے مقابلہ میں قلم اٹھا کر دیکھ لیں۔ان کے قلم توڑ دیئے جاویں گے اور اگر ان میں کچھ طاقت ہے اور قوت ہے تو وہ اکیلے اکیلے یا سب کے سب مل کر اس کا مقابلہ کریں پھر انہیں معلوم ہو جائے گا اور یہ راز بھی کھل جائے گا جو یہ نا واقف کہا کرتے ہیں کہ عربوں کو ہزار ہا روپے کے نوٹ دے کر کتابیں لکھائی جاتی ہیں۔اب معلوم ہو جائے گا کہ کون عرب ہے جو ایسی فصیح بلیغ کتاب اور ایسے حقائق ومعارف سے پُر لکھ سکتا ہے۔جو کتابیں یہ ادب وانشاء کا دعویٰ کرنے