ملفوظات (جلد 2) — Page 317
غرض نزولِ ایلیاء کا مسئلہ بڑا صاف اور یقینی مسئلہ ہے اور خود حضرت مسیح کی زبان سے فیصلہ پا چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی آمد ثانی کا بھی ذکر کر دیا ہے مگر افسوس ہے لوگ سمجھتے ہوئے نہیں سمجھتے! مگر کب تک انکار کریں گے۔آخر یہ سچائی روز روشن کی طرح کھل جائے گی اور قومیں اس طرف رجوع کریں گی اسی طرح جیسے مسیح ابن مریم کے لیے ہوا۔توحید کا ایک ثبوت اللہ تعالیٰ کی توحید پر یوں تو ہزاروں دلائل ہیں لیکن ایک دلیل بڑی عام اور صاف ہے اور وہ یہ ہے کہ وضع عالم میں ایک کرویت واقع ہوئی ہے اور کرویت میں توحید ہی پائی جاتی ہے۔پانی کا قطرہ لو تو وہ بھی گول ہے۔زمین کی شکل بھی گول ہے۔آگ کا شعلہ بھی گول ہی ہے۔ایسا ہی ستارے بھی گول ہیں۔اگر تثلیث درست ہوتی تو چاہیے تھا کہ ان اشیاء کی اشکال و صُوَر بھی سہ گوشہ اور مثلّث نما ہوتیں۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ نے آدم سے ایک سلسلہ شروع کیا اور آدم ہی پر اسے ختم کیا۔چنانچہ مسیح موعود کا نام بھی آدم رکھا ہے چونکہ یہ آدم نئی قسم کا ہے اس لیے اس کے ساتھ شیطانی جنگ بھی نئے ہی قسم کی ہے۔۱ ۳۰؍اکتوبر۱۹۰۱ء ابھی مغرب کی اذان نہ ہوئی تھی کہ حضرت اقدس علیہ السلام تشریف لے آئے۔آپ کا چہرہ بشاشت اور مسرت سے پھول کی طرح کھلا ہوا تھا چہرہ سے ایک جلال ٹپکتا تھا۔آتے ہی فرمایا۔مسیح کی شان میں ایک افراط وتفریط کے خلاف غیرت کا اظہار آج میں نے ایک مضمون لکھنا شروع کیا ہے مسیح علیہ السلام کی نسبت بہت بڑا اِطراء کیا گیا ہے اور ان کی شان میں اتنا غلو کیا گیا ہے کہ معاذ اللہ خدا ہی بنا دیا گیا ہے۔ہم ان کی عزّت کرتے ہیں جیسے اور نبیوں کی عزّت کرتے ہیں اور خدا کا راست باز نبی مانتے ہیں مگر اس غلو اور اطراء کو توڑنے کے لئے میں نے تجویز کیا ہے کہ ان کی وہ ساری سوانح یکجائی طور پر پیش کریں جو عیسائیوں اور یہودیوں کی