ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 314

سے جب انہوںنے یہی سوال کیا تو انہوںنے اس پیشگوئی کو تو تسلیم کر لیا لیکن یہ فیصلہ کر لیا کہ آنے والے ایلیا سے مراد یحییٰ ہے۔یہودی اس فیصلہ کو سن کر یحییٰ کے پاس پہنچے۔وہ اس مباحثہ سے بکلی بے خبر اور نا واقف تھے۔انہوں نے ایلیا ہونے سے انکار کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یہودیوں کی مخالفت اور بھی تیز ہوگئی اور انہوں نے اصل حقیقت سے بے خبر رہ کر ظاہر الفاظ پر زور دیا اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کے ایک سچے نبی کا انکار کر دیا۔نہ صرف انکار کیا بلکہ ہر طرح سے اس کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کی اور آخر خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک مغضوب اور لعنتی قوم ٹھہر گئے۔اب غور کرو اگر ایلیا کا آنا درست تھا اور حضرت یحییٰ کی شکل میں ایلیا کا بروزی رنگ میں آنا درست نہیں تو ہمارے مخالف مسلمان بتائیں کہ ملاکی نبی کے صحیفہ کی پیشگوئی کو مد نظر رکھ کر حضرت عیسیٰ کی نبوت کا کیا ثبوت ہے؟ پھر یقیناً وہ نبوت ثابت نہیں ہو سکتی اور دوسری مشکل یہ پڑتی ہے کہ حضرت عیسیٰ جو مُردوں کو زندہ کرنے والے تھے کیوں انہوں نے ایلیا کو زندہ نہ کرلیا؟ اس سے دو باتیں اور بھی ثابت ہوگئیں۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت اور سنّت نہیںکہ وہ مُردوں کو دوبارہ دنیا میں بھیجے اور زندہ کرے۔دوسری یہ کہ مسیح نے کوئی مُردہ زندہ نہیں کیا۔پس خوب غور کرو! اگر بروزی آمد ایلیا کی مراد نہ ہوگی تو مسیح کی نبوت جاتی رہے گی اور پھر اس کی زد اسلام اور قرآن شریف پر پڑے گی۔آنے والا مسیح آچکا ہے اس وقت مسیح کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر دوسرے وجوہ اور ضروریات کو چھوڑ دیا جاوے تو سلسلہ مماثلت موسوی کے لحاظ سے بھی سخت ضرورت ہے اس لیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے۔غرض میںتو بروز کی ایک نظیر پیش کرتا ہوں لیکن جو یہ کہتے ہیںکہ نہیں خود حضرت مسیح ہی دوبارہ آئیں گے انہیں بھی تو کوئی نظیر پیش کرنی چاہیے اور اگر وہ نہیں کر سکتے اور یقیناً نہیں کر سکتے تو پھر کیوں ایسی بات کرتے ہیں جو محدثات میں داخل ہے؟ محدثات سے پرہیز کرو کیونکہ وہ ہلاکت کی راہ ہے۔یہودیوں پر غضب الٰہی اسی وجہ سے نازل ہوا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے ایک رسول کا انکار کر دیا اور اس انکار کے لیے ان کو یہ مصیبت پیش آئی کہ انہوں نے استعارہ کو حقیقت پر حمل کیا