ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 25

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵ جلد دوم ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کو سر او عَلَانِيَّةً نیکی کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ میری حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں ہے بلکہ میرے پاس آؤ اور میری سنو! میری حیثیت سن انبیاء کی سی حیثیت ہے۔ مجھے ایک سماوی آدمی مانو پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزاعیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں ایک دم طے ہو سکتی ہیں۔ جو خدا کی طرف سے مامور ہو کہ سے مام مامور ہو کر حکم بن کر آیا ہے جو معنی قر یا ہے جو معنی قرآن شریف کے وہ میں کرے گا وہی صحیح ہوں گے اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گا وہی صحیح حدیث ہوگی ۔ ور نہ شیعہ سنی کے جھگڑے آج تک دیکھو کب طے ہونے میں آتے ہیں۔ شیعہ اگر تیرا کرتے ہیں تو بعض ایسے بھی ہیں جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت کہتے ہیں۔ بر خلافت دلش بسے مائل لیک بوبکر شد درمیاں حائل مگر میں کہتا ہوں کہ جب تک یہ اپنا طریق چھوڑ کر مجھ میں ہو کر نہیں دیکھتے یہ حق پر ہر گز نہیں پہنچ سکتے ۔ اگر ان لوگوں کو اور یقین نہیں تو اتنا تو ہونا چاہیے کہ آخر مرنا ہے اور مرنے کے بعد گند سے تو کبھی نجات نہیں ہو سکتی۔ سب وشتم جب ایک شریف آدمی کے نزدیک پسندیدہ چیز نہیں ہے تو پھر خدائے قدوس کے حضور عبادت کب ہو سکتی ہے؟ اس لئے تو میں کہتا ہوں کہ میرے پاس آؤ ، میری سنو تا کہ تمہیں حق ۔ میں تو سارا ہی چولا اتارنا چاہتا ہوں ۔ سچی توبہ کر کے مومن بن جاؤ۔ پھر جس امام کے تم منتظر ہو، میں کہتا ہوں وہ میں ہوں۔ اس کا ثبوت مجھ سے لو ۔ اسی لئے میں نے اس خلیفہ بلا فصل کے سوال کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا۔ میں ایسے گندے سوال کو کیا کروں ۔ انہیں گندوں کو نکالنے کے واسطے تو خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ دیکھو ! سنّی اُن کی حدیثوں کو لغو ٹھہراتے ہیں۔ یہ اپنی حدیثوں کو مرفوع متصل اور آئمہ سے مروی قرار دیتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں یہ سب جھگڑے فضول ہیں۔ اب مردہ باتوں کو چھوڑو اور ایک زندہ امام کو شناخت کرو کہ تمہیں زندگی کی روح ملے۔ اگر تمہیں خدا کی تلاش ہے تو اس کو ڈھونڈ و جو خدا کی طرف