ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 302

دوسرے تعلقات قائم تھے۔اُن کو پرورش کے لئے ضرورت پڑی کہ ادھر سے سُست ہوں۔سُستی سے اجنبیت پیدا ہوئی پھر اس سے تکبر اور پھر انکار تک نوبت پہنچی۔تبتّل کا عملی نمونہ ہمارے پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔نہ آپؐکو کسی کی مدح کی پَروا نہ ذم کی۔کیا کیا آپؐکو تکالیف پیش آئیں مگرکچھ بھی پروانہیں کی۔کوئی لالچ اورطمع آپؐکو اس کام سے نہ روک سکا جوآپؐخدا کی طرف سے کرنے آئے تھے۔جب تک انسان اس حالت کو اپنے اندر مشاہدہ نہ کرلے اورامتحان میں پاس نہ ہولے کبھی بھی بے فکر نہ ہو۔پھر یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ جوشخص متبتّل ہوگا متوکّل بھی وہی ہوگا۔گویامتوکّل ہونے کے واسطے متبتّل ہونا شرط ہے۔کیونکہ جب تک اوروں کے ساتھ تعلقات ایسے ہیں کہ ان پر بھروسہ اورتکیہ کرتا ہے اُس وقت تک خالصتہً اللہ پرتوکّل کب ہوسکتا ہے۔جب خدا کی طرف انقطاع کرتاہے تو وہ دنیا کی طرف سے توڑتا ہے اور خدا میں پیوند کرتا ہے اور یہ تب ہوتاہے جب کہ کامل توکّل ہوجیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل متبتّل تھے ویسے ہی کامل متوکّل بھی تھے اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اورقوم وقبائل کے سرداروں کی ذرا بھی پروانہیں کی او ران کی مخالفت سے کچھ بھی متاثرنہ ہوئے۔آپؐمیں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا۔اسی لیے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپؐنے اُٹھالیا اورساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔یہ بڑا نمونہ ہے توکل کا جس کی نظیر دنیامیں نہیں ملتی۔اس لیے کہ اس میں خدا کو پسند کرکے دنیا کو مخالف بنالیا جاتاہے مگر یہ حالت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کو نہ دیکھ لے۔جب تک یہ اُمید نہ ہوکہ اس کے بعد دوسرا دروازہ ضرور کھلنے والا ہے جب یہ امیداور یقین ہو جاتا ہے تووہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنالیتا ہے۔اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اَور دوست بنادے گا۔جائیداد کھودیتا ہے کہ اس سے بہتر ملنے کا یقین ہوتا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ خد ا ہی کی رضا کو مقدّم کرنا توتبتّل ہے اورپھر تبتّل اور توکّل تواَم ہیں۔تبتّل کا راز ہے توکّل اورتوکّل کی شرط ہے تبتّل۔یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔۱