ملفوظات (جلد 2) — Page 301
دل میں ہو اور اس کی عظمت اور جبروت کی حکومت کے ماتحت انسان ہو پھر اس کو کسی دوسرے کی پروا کیا ہوسکتی ہے کہ وہ کیا کہتا ہے کیا نہیں؟ ابھی اس کے دل میں لوگوں کی حکومت ہے نہ خدا کی۔جب یہ مشرکانہ خیال دل سے دورہوجاوے پھر سب کے سب مُردے او رکیڑے سے بھی کمتر اور کمزور نظرآتے ہیں۔اگر ساری دُنیا مل کر بھی مقابلہ کرنا چاہے تو ممکن نہیں کہ ایساشخص حق کوقبول کرنے سے رُک جائے۔تبتّل تام کا پورا نمونہ انبیاء علیہم السلام اور خدا کے ماموروں میں مشاہدہ کرنا چاہیے کہ وہ کس طرح دنیاداروں کی مخالفتوں کے باوجود پوری بے کسی اور ناتوانی کے پروا تک نہیں کرتے۔اُن کی رفتار اور حالات سے سبق لینا چاہیے۔بعض لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ ایسے لوگ جو بُرا نہیں کہتے مگر پورے طور پر اظہار بھی نہیں کرتے محض اس وجہ سے کہ لوگ بُرا کہیں گے کیا اُن کے پیچھے نماز پڑھ لیں؟ مَیںکہتا ہوں ہرگز نہیں۔اس لیے کہ ابھی تک اُن کے قبولِ حق کی راہ میں ایک ٹھوکر کا پتھرہے اور وہ ابھی تک اسی درخت کی شاخ ہیں جس کا پھل زہریلا اور ہلاک کرنے والا ہے۔اگر وہ دنیا داروں کو اپنامعبود اورقبلہ نہ سمجھتے توان سارے حجابوں کو چیر کر باہر نکل آتے اور کسی کے لعن طعن کی ذرا بھی پروا نہ کرتے اور کوئی خوف شماتت کا انہیں دامن گیرنہ ہوتا بلکہ وہ خدا کی طرف دوڑتے۔پس یادرکھو کہ تم ہرکام میں دیکھ لو کہ اس میں خدا راضی ہے یا مخلوقِ خدا۔جب تک یہ حالت نہ ہوجاوے کہ خدا کی رضا مقدم ہوجاوے اور کوئی شیطان اور رہزن نہ ہوسکے اس وقت تک ٹھوکر کھانے کااندیشہ ہے لیکن جب دنیا کی بُرائی بھلائی محسوس ہی نہ ہو بلکہ خدا کی خوشنودی اور ناراضگی اس پر اثرکرنے والی ہویہ وہ حالت ہوتی ہے جب انسان ہر قسم کے خوف وحُزن کے مقامات سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص ہماری جماعت میں شامل ہوکر پھر اس سے نکل بھی جاتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس کا شیطان اس لباس میں ہنوز اس کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اگر وہ عزم کرلے کہ آئندہ کسی وسوسہ انداز کی بات کو سُنوں گا ہی نہیں تو خدا اسے بچالیتا ہے۔ٹھوکر لگنے کا عموماً یہی سبب ہوتاہے کہ