ملفوظات (جلد 2) — Page 300
ہوائے نفس اور دنیوی تعلقات کی روکیں اور زنجیریں باقی ہیں اور ان حجابوں سے وہ باہر نہیں نکلا جن کو پھاڑکر انسان اس درجہ کو حاصل کرتا ہے۔جب تک وہ دنیا کے درخت سے کاٹا جاکر الوہیت کی شاخ کے ساتھ ایک پیوند حاصل نہیں کرتا اس کی سرسبزی اور شادابی محال ہے۔دیکھو! جب ایک درخت کی شاخ اس سے کاٹ دی جاوے تو وہ پھل پھول نہیں دے سکتی۔خواہ اسے پانی کے اندر ہی کیوں نہ رکھو اور ان تمام اسباب کو جوپہلی صورت میں اُس کے لئے مایۂ حیات تھے استعمال کرو لیکن وہ کبھی بھی بارآور نہ ہوگی۔اسی طرح پر جب تک ایک صادق کے ساتھ انسان کاپیوندقائم نہیں ہوتا وہ روحانیت کو جذب کرنے کی قوت نہیں پاسکتا جیسے وہ شاخ تنہا اور الگ ہوکر پانی سے سرسبز نہیں ہوتی اسی طرح پریہ بے تعلق اور الگ ہوکر بار آور نہیں ہوسکتا۔پس انسان کو متبتّل ہونے کے لئے ایک قطع کی ضرورت بھی ہے اور ایک پیوند کی بھی۔خداکے ساتھ اُسے پیوند کرنا اور دنیا اور اس کے تمام تعلقات اور جذبات سے الگ بھی ہونا پڑے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بالکل دنیا سے الگ رہ کر یہ تعلق اور پیوند حاصل کرے گا۔نہیں بلکہ دنیامیں رہ کر پھر اس سے الگ رہے۔یہی تو مردانگی اور شجاعت ہے اورالگ ہونے سے مراد یہ کہ دنیا کی تحریکیں اور جذبات اس کو اپنا زیراثرنہ کرلیں اور وہ ان کو مقدّم نہ کرے بلکہ خدا کومقدّم کرے۔دنیا کی کوئی تحریک اور روک اس کی راہ میں نہ آوے اوراپنی طرف اس کو جذب نہ کرسکے۔مَیں نے ابھی کہا ہے کہ دنیا میں بہت سی روکیں انسان کے لئے ہیں۔ایک جورویابیوی بھی بہت کچھ رہ زن ہوسکتی ہے۔خدا نے اس کانمونہ بھی پیش کیا ہے۔خدا نے ایک نہی کی تعلیم دی تھی اس کا اثر پہلے عورت پر ہواپھر آدم ؑ پر ہوا۔غرض تبتّل کیا ہے؟ خدا کی طرف انقطاع کرکے دوسروں کو محض مُردہ سمجھ لینا۔بہت سے لوگ ہیں جو ہماری باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ بجااور درست ہے مگرجب اُن سے کہا جاوے کہ پھر تم اس کوقبول کیوں نہیں کرتے تو وہ یہی کہیں گے کہ لوگ ہم کو بُراکہتے ہیں۔پس یہ خیال کہ لوگ اُس کو بُرا کہتے ہیں یہی ایک رگ ہے جو خدا سے قطع کراتی ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا خوف