ملفوظات (جلد 2) — Page 293
جس طرح چاہا تاویل کرلی۔لُدھیانہ میں مَیں ایک دفعہ تھا تو نوابوں کے خاندان میں سے ایک شخص میرے پا س آیا اور باتوں ہی باتوں میں انہوں نے کہا کہ مَیں پکا حنفی ہوں اور یہ بھی کہاکہ میرے چچا صاحب کو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے بڑی حسنِ عقیدت تھی۔یہاں تک کہ جب انہوں نے مَالَا بُدَّ مِنْہُ میں امام صاحبؓکا یہ قول دیکھا کہ صرف جَو اور انگور اور دو اور یعنی چارقسم کی شراب حرام ہے تو انہوں نے ولایت کی شرابیں منگواکر اسی ہزارروپیہ کی شراب پی تاکہ امام صاحبؒ کی سچی پیروی ہوجاوے۔اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ ثُمَّ اسْتَغْفِرُاللّٰہَ۔غرض اس قسم کی تاویلیںکرلیتے ہیں۔عام طور پرشکایت کی جاتی ہے کہ جس قسم کا فتویٰ کوئی چاہے ان سے لے لے۔حلالہ کا مسئلہ بھی انہوں نے ہی نکالا ہے۔اگر کوئی عورت کو طلاق دے دے تو پھر جائز طو رپر رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرے اوروہ پھر اس کو طلاق دے حالانکہ قرآن شریف میں کہیں اس کا پتہ نہیں ملتا اور احادیث میں حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے۔شافعی پھر ایک اور فرقہ شافعی مذہب والوں کا ہے۔وہ تو وحشیوں کی سی زندگی بسرکرتے ہیں ہیں۔ان کے ہاں ایک مقولہ ہے ’’شافعی سب کچھ معافی‘‘یعنی نہ حِلّت وحُرمت کی ضرورت ہے نہ کچھ اور۔چنانچہ ہمارے ملک میں خانہ بدوش لوگ جو پھر اکرتے ہیں یہ اپنے آپ کوشافعی کہتے ہیں۔ان کے اطوارا ور چال چلن کو دیکھ لو۔امرتسر میں ایک موَحّد رنڈی کی مسجد میں نماز پڑھایاکرتاتھا۔اس نے میرے پاس ذکر کیا کہ وہ ایک مرتبہ بمبئی چلا گیا اور اتفاق سے شافعیوں کی مسجد میں چلاگیا۔صبح کی نماز کا وقت تھا۔اس سے جب دریافت کیا تو اس نے کہہ دیا کہ مَیں شافعی ہوں اور جب انہوں نے اس کو نماز کے لئے امام بنایا اوراس نے شافعی مذہب کے موافق صبح کی نمازمیں قنوت نہ پڑھی تو وہ لوگ بڑے ہی برافروختہ ہوئے۔آخربمشکل وہاں سے بچ کر نکلا۔الغرض مذہب اسلام میں اندرونی طور پر ایسے ایسے بہت سے فساد اور فتنے ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے اور بیرونی فسادوں کو آدمی دیکھے تو اور بھی حیران ہوجاتا ہے۔ایک پادریوں کے ہی فتنہ کو دیکھو تو گھبرا جائو۔مختصر یہ کہ ان سارے فسادوں