ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 292

زکوٰۃ کے اثر سے بچالیتے تھے۔اس قسم کے بہت سے افترا کرتے ہیں۔انہوں نے بجزخشک لفّاظی کے اور کوئی فائدہ اسلام کو نہیں پہنچایا۔اپنے طریقِ عمل سے اسلام کو مُردہ مذہب ثابت کرنا چاہا ہے جب کہ یہ کہہ دیا کہ اب کوئی ایسا مرد نہیں ہے جس کے ساتھ زندہ نشانات اسلام کی تائید میں ہوں۔افسوس! ان لوگوں کی عقلوں کو کیا ہوا۔یہ کیوں نہیں سمجھتے؟ کیا قرآن میں جو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ( الفاتـحۃ :۶، ۷) کہا گیا تھا یہ یُونہی ایک بے معنی اور بے مطلب بات تھی اور نرا ایک قصہ ہی قصہ ہے؟ کیا وہ انعام کچھ نہ تھا۔خدا نے نرا دھوکہ ہی دیا ہے؟ اور وہ اپنے سچے طالبوں اور صادقوں کو بدنصیب ہی رکھنا چاہتا ہے؟کس قدر ظلم ہے اگر یہ خدا کی نسبت قراردیاجاوے کہ وہ نری لفّاظی ہی سے کام لیتا ہے۔حقیقت یہ نہیں ہے۔یہ ان لوگوں کی اپنی خیالی باتیں ہیں۔قرآن شریف درحقیقت انسان کو ان مراتب اور اعلیٰ مدارج پر پہنچانا چاہتا ہے جو اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق لوگوں کو دیئے گئے تھے اور کوئی زمانہ ایسانہیں ہوتا جب کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے زندہ ثبوت موجود نہ ہوں۔ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں کہ آریوں کی طرح کوئی خدا کا پریمی اوربھگت کتنی ہی دعائیں کرے اور رورو کر اپنی جان کھوئے اور اس کا کوئی نتیجہ نہ ہو۔اسلام خشک مذہب نہیں ہے۔اسلام ہمیشہ ایک زندہ مذہب ہے اور اس کے نشانات اس کے ساتھ ہیں۔پیچھے رہے ہوئے نہیں ہیں۔غرض یہ بھی ایک بدنصیب گروہ ہے۔یہ لوگ اپنااصل مذہب نہیں بتاتے ہیں۔ان کی خبر مشکل سے ہوتی ہے۔اَحناف رہے حنفی ، ان میں بدقسمتی سے اقوالِ مَردودہ اور بدعات نے دخل پالیا ہے۔حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ تواعلیٰ درجہ کے متّقی تھے مگر اُن کے پَیروئوں میں جب روحانیت نہ رہی تو انہوں نے اور بدعتوں کو داخل کرلیا اورتقلید میں انہوں نے یہاں تک غلو کیا کہ ان لوگوں کے اقوال کو جن کی عصمت کاقرآن دعویٰ نہیں کرتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پر بھی فضیلت دے دی اور اپنے اغراض اور مقاصد کو مدِّ نظر رکھ کر امام صاحبؒ کے اقوال کی