ملفوظات (جلد 2) — Page 291
اس کا نام تھااُس نے صاف کہہ دیا کہ حضرت عمر بھی محدث نہ تھے اور حدیث کے معنی یہ کیے کہ اگر محدث ہوتاتو عمرؓ ہوتا۔یہ ترجمہ کرکے اس نے خدا پر الزام لگایا کہ اس نے اس اُمت کے گویا آنسو پُونچھ دئیے اور کچھ نہیں۔مگر مَیں پوچھتا ہوں کہ ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ کیا اس کرتوت پر وہ اس اُمت کو خیرالامم قراردیتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک شخص بھی ایسانہ ہو اجس کو خدا تعالیٰ سے کلام کرنے کا شرف ملا ہو اور جو اسلام کی صداقت کے لئے ایک زندہ نمونہ ٹھہرتا۔ان لوگوں نے عملی طور پر گویا مان لیا ہے کہ اب نہ کسی کا خدا سے تعلق ہے نہ مکالمہ الٰہیہ کا شرف کسی کو حاصل ہے دعائوں کی قبولیت کا کوئی نشان موجود نہیں ہے۔پھر بنی اسرائیل کی تو عورتوں تک کو بھی خدا سے ہم کلام ہونے کا شرف ملتا تھا کیا اسلام میں کوئی مرد بنی اسرائیل کی عورتوں جیسا بھی نہیں ہے؟ اے اسلام کے نادان دوستو! ذراغور تو کرو کہ اس سے اسلام پر کیسا حرف آتا ہے کیا خدا نے اسی واسطے اسلام کوتمہارے لیے پسند کیاتھا اور اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیاتھا کہ آئندہ قیامت تک کوئی نشان ان کی صداقت پر قائم نہ ہوتا اور زندگی کے نشان مٹائے جاتے؟ مجھے بہت ہی افسوس ہوتا ہے جب ان لوگوں کے عقائد پر نظرکرتاہوں ان میں بجز الفاظ کے اور کچھ نظر نہیں آتا اور جو کچھ انہوں نے مان رکھا ہے اس سے مخالفوں کو بڑے بڑے اعتراض کرنے کا موقع ملا ہے چنانچہ مسیح کے متعلق ہی جو کچھ ان کے عقائد ہیں وہ پوشیدہ نہیں۔یہ لوگ مانتے ہیں کہ مسیح مُردے زندہ کرتا تھا اور چڑیاں بھی بنایا کرتاتھا اورآج تک وہ آسمان پر بغیر کسی قسم کے زمانہ کے اثر ہونے کے بیٹھا ہو اہے تو بتائو کہ اس کے خدا بنانے میں انہوں نے کیا باقی رکھا۔میں نے ایک موَحّد سے پوچھا کہ تم جو کہتے ہو کہ مسیح نے بھی کچھ جانور بنائے تھے اور وہ خدا کے بنائے ہوئے پرندوں میں مل جل گئے۔اب ہمیں کیوں کر معلوم ہوکہ یہ جانور مسیح کا بنایا ہوا ہے۔اس نے کہا کہ کچھ گڑبڑ ہوگئی ہے۔غرض اس قسم کے ان لوگوں کے عقائدہیں۔ہاں چالاکی سے اَئمہ اربعہ کو بُرا کہہ لیتے ہیں مثلاً ایک امام کی بابت وہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ بڑے مالدار تھے اور زکوٰۃ نہیں دیتے تھے۔آخر سال پر سارا مال بیوی کو دے دیتے تھے اور پھر اپنی طرف منتقل کرلیتے تھے اس طرح پر گویا اس کو