ملفوظات (جلد 2) — Page 283
سنّتِ قدیم میں سے یہ امر بھی ہے کہ وہ ظاہر نہیں فرماتا جب تک اس کا وقت نہ آجائے۔مگر اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ تخم ریزی ہورہی ہے۔اندرونی مصائب کو ہی دیکھو کہ وہ کیا رنگ لارہے ہیں۔مسلمانوں میں وحدت نہیں رہی جو کامیابی کا اصل الا ُصول ہے۔خوراج، شیعہ الگ ہیں۔حنبلی، شافعی، مالکی،حنفی الگ ہیں۔صُوفیوں اور مشائخ میں الگ الگ تفرقہ شروع ہے۔جیسا کہ چشتی، نقشبندی، سہروردی، قادری وغیرہ فرقوں سے معلوم ہوتا ہے۔ہر ایک ان فرقہ والوں میں سے بجائے خود یہ خیال کرتا ہے اور کرتا ہوگاکہ اب اسی کا فرقہ کامیاب ہوجائے گا اور باقی سب کا نام ونشان مٹ جائے گا۔حنفی کہتے ہوں گے کہ سب حنفی ہی ہوجائیں گے۔رَافضیوں کے نزدیک ابھی رَفض ہی کا زمانہ ہوگا۔وجودی کہتے ہوں گے کہ سب وجودی ہی ہوجائیں گے۔اصل میں یہ سب جھوٹے ہیں کیونکہ یہ باتیں خدا تعالیٰ سے استمزاج کرکے تو نہیں کی جاتی ہیں بلکہ اپنے ذاتی اور سطحی خیالات ہیں۔کوئی شخص خدا تعالیٰ کے ارادہ تک نہیں پہنچا۔خدا تعالیٰ کے ارادے وہی ہیں جو قرآن شریف سے ثابت ہیں۔جو ظلم اس وقت کتاب اللہ پر اندرونی یا بیرونی طور پر کیا گیا ہے۔جوفرقہ اس ظلم کا انتقام لینے والا اور کتاب اللہ کے جلال اور عظمت کو ظاہر کرنے والا ہوگا وہی خدا سے تائید پائے گا اور اسی کی کامیابی خدا کے حضور سے مقدر ہے۔جو اس ظلم کی اصلاح کرے گا خواہ اس فرقہ کا کوئی نام ہو۔اگر وہ فرقہ دین کے لیے غیرت رکھتا اور کتاب اللہ کی عزّت کے لئے اپنے ننگ و نام کو کھوتا ہے تو اس وقت ایک لذّت اور بصیرت کے ساتھ خودبخود روشن ہوجائے گا کہ یہی خدا تعالیٰ سے مدد یافتہ ہے۔جو کچھ اس زمانہ میں پھیلا ہو اہے اس کی بابت کچھ نہ پُوچھیے۔بہت سے چور اور ڈاکو مل کر نقب زنی کررہے ہیں اور ایک خطرناک سازش اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب اللہ کے خلاف کی جاتی ہے مگر یہاں کچھ فکر ہی نہیں۔اندرونی مفاسد نے مخالفوں کو موقع دے دیا ہے کہ وہ متاعِ اسلام کے لوٹ لینے میں دلیر ہوجائیں۔میری رائے میں اندرونی مفاسد میں سے بہت کچھ حصہ تو علماء کے باعث سے پید اہوا ہے اور کچھ حصہ اُن لوگوں کی غلطیوں کا ہے جو اپنے آپ کو موَحّد کہلاتے ہیں اورا نہوں نے نری خشک