ملفوظات (جلد 2) — Page 282
جس قدر محنت اس نے ایک مصرعہ کے لئے اٹھائی اتنی محنت اب لوگ ایک آیت قرآنی کے سمجھنے کے لئے نہیں اٹھاتے۔قرآن جواہرات کی تھیلی ہے اور لوگ اس سے بے خبر ہیں۔۱ ۱۲؍ستمبر۱۹۰۱ء مسیح موعود کی سچائی پر زمانہ کی شہادت اسلام کی موجودہ حالت خود بتا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی سلسلہ ایسا قائم کرے جو اس کو ان مشکلات سے نجات دے۔زیرک اور دانش مند انسان کے لئے کیا یہ کافی نہیں ہے کہ جب زمین پر طیاری ہے تو آسمان پر کوئی طیاری نہ ہو گی؟کیا مخالفوں نے اسلام کے نیست ونابود کرنے میں کوئی کمی چھوڑی ہے۔پادریوں کی طرف دیکھوکہ انہوں نے کس قدر زور لگایا ہے۔ان لوگوں کے ارادے ہیں اور ان کے نزدیک وہ امن جس کو یہ امن قراردیتے ہیں اس وقت قائم ہو سکتا ہے کہ اسلام کا استیصال ہوجاوے۔جو شخص قرآن شریف کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کاسچانبی مانتا ہے اسے سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے جو یہ وعدہ کیا تھا کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) کیا وہ اس وقت ان بے جا حملوں کے دفاع اورفرو کرنے کے لئے اس صدی کے سر پر اپنی سنّت قدیمہ کے موافق کوئی آسمانی سلسلہ قائم نہ کرتا؟؟؟ اور پھر قرآن شریف میں جبکہ یہ صاف فرما دیا ہے کہ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا( الم نشـرح :۷) تو کیا ضروری نہ تھا کہ ان تنگیوں کی جن میں آج اسلام مبتلا ہے انتہاہوتی ؟ اور یُسر کی حالت پید اہوتی؟ بے شک ضرورتھا چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان پر غور کرنے سے ضروری طور پر سمجھ میں آتا ہے کہ اس مصیبت اور تنگی کے وقت ضرورآسمان پر ایک سامان ہوچکا ہے اور طیاری ہورہی ہے۔اور وہ وقت قریب ہے کہ اسلام اپنی اصلی حالت اور صورت میں نمایاں ہو اور مِلَلِ ہَالِکَہ تباہ ہوجائیں۔خدا تعالیٰ کی