ملفوظات (جلد 2) — Page 281
عرب صاحب نے عرض کیا کہ ہمارے ملک کے لوگ بہت سخت ہیں اور ہماری قوم شیعہ ہے۔فرمایا۔تم خدا کے بنو۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کا معاملہ صاف ہو جائے اللہ تعالیٰ آپ اس کا متولی اور متکفل ہو جاتا ہے۔اب اسلام کا مذہب پھیلے گا فرمایا۔آج کل تمام مذاہب کے لوگ جوش میں ہیں۔عیسائی کہتے ہیں کہ اب ساری دنیا میں مذہب عیسوی پھیل جائے گا۔برہمو کہتے ہیں کہ ساری دنیا میںبرہموں کا مذہب پھیل جائے گا اور آریہ کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب سب پر غالب آجائے گا مگر یہ سب جھوٹ کہتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان میں کسی کے ساتھ نہیں اب دنیا میں اسلام کا مذہب پھیلے گا اور باقی سب مذاہب اس کے آگے ذلیل اور حقیر ہو جائیں گے۔دعا فرمایا۔جو بات ہماری سمجھ میں نہ آوے یا کوئی مشکل پیش آوے تو ہمارا طریق یہ ہے کہ ہم تمام فکر کو چھوڑ کر صرف دعا میں اور تضرع میں مصروف ہو جاتے ہیں تب وہ بات حل ہو جاتی ہے۔قرآن شریف پر غور کی ضرورت فرمایا۔افسوس ہے کہ لوگ جوش اور سرگرمی کے ساتھ قرآن شریف کی طرف توجہ نہیں کرتے جیسا کہ دنیا دار اپنی دنیاداری پر یا ایک شاعر اپنے اشعار پر غور کرتا ہے۔ویسا بھی قرآن شریف پر غور نہیں کیا جاتا۔بٹالہ میں ایک شاعر تھا۔اس کا ایک دیوان ہے۔اس نے ایک دفعہ ایک مصرعہ کہا۔ع صبا شرمندہ مے گردد بروئے گل نگہ کردن مگر دوسرا مصرعہ اس کو نہ آیا دوسرے مصرعہ کی تلاش میں برابر چھ مہینے سر گردان وحیران پھرتا رہا۔بالآخر ایک دن ایک بزاز کی دکان پر کپڑا خریدنے گیا۔بزاز نے کئی تھان کپڑوں کے نکالے پر اس کو کوئی پسند نہ آیا۔آخر بغیر کچھ خریدنے کے بعد جب اٹھ کھڑا ہوا ،تو بزاز ناراض ہوا اور کہا کہ تم نے اتنے تھان کھلوائے اور بے فائدہ تکلیف دی۔اس پر اس کو دوسرا مصرعہ سوجھ گیا۔اور اپنا شعر اس طرح سے پورا کیا۔؎ صبا شرمندہ مے گردد بروئے گل نگہ کردن کہ رخت غنچہ را وا کردد نتوانست تہ کردن