ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 277

بَد ظنّی بد ظنی سے حبط اعمال ہو جاتا ہے تذکرۃ الاولیا ء میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ میں اپنے آپ کو سب سے بد تر سمجھو ں گا۔ایک بار وہ دریا پر گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک جوان عو رت ہے اور ایک مرد بھی اس کے ساتھ ہے اور دونوں بڑی خوشی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں وہاں اس نے دعا کی کہ الٰہی! میں اس شخص سے تو بہتر ہوں کیونکہ اس نے حیا چھو ڑدیا ہے اتنے میں کشتی آئی اور وہ اس میں سوار ہو گئے سات آدمی تھے وہ غرق ہو گئے وہ شخص جس کو اس نے شرابی سمجھا تھا دریا میں کود پڑا اور چھ کو بچا لایا اور ایک باقی رہا تو اس کو مخاطب کر کے کہا کہ تونے ایسا گمان کیا تھا اب ایک باقی ہے اسے نکال لااس وقت اس نے سمجھا کہ یہ تو مجھے ٹھوکر لگی۔آخر اس سے اصل معاملہ پوچھا تو اس نے کہا کہ میں تیرے لئے خدا کا مامور ہوں یہ عورت میری والدہ ہے اور جس کو تو شراب کہتا ہے یہ اس دریا کا پانی ہے اور یہاں میں خدا تعالیٰ کے بٹھائے سے بیٹھاہوں۔غرض حُسنِ ظن بڑی عمدہ چیز ہے اس کو ہاتھ (سے) نہیں دینا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور انعام پر اس کاشکر کرنا کبھی ناجائز نہیں ہوسکتا جب تک کہ محض اس کی رضا ہی مطلوب ہو اور دنیا کی شیخی اور نمود غرض نہ ہو۔۱ ۳؍ستمبر۱۹۰۱ء ایک رؤیا فرمایا۔آج ہم نے رؤیا میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا دربار ہے اور ایک مجمع ہے اور اس میں تلواروں کا ذکر ہو رہا ہے تو میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا کہ سب سے بہتر اور تیز تر وہ تلوار ہے جوتیری تلوار میرے پاس ہے۔اس کے بعد ہماری آنکھ کھل گئی اور پھر ہم نہیں سوئے۔کیونکہ لکھا ہے کہ جب مبشر خواب دیکھو تو اس کے بعد جہاں تک ہو سکے نہیں سونا چاہیے اور تلوار سے مراد یہی حربہ ہے جو کہ ہم اس وقت اپنے مخالفوں پر چلا رہے ہیں۔جو آسمانی حربہ ہے۔