ملفوظات (جلد 2) — Page 273
بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہو سکتی ہیں چنانچہ اس کی طرف اشارہ کر کے سعدی کہتا ہے۔؎ کلید در دوزخ است آں نماز کہ در چشم مردم گزاری دراز ریاء الناس کے لئے خواہ کوئی کام بھی کیا جاوے اور اس میں کتنی ہی نیکی ہو لیکن وہ بالکل بے سود اور اُلٹا عذاب کا موجب ہو جاتا ہے۔احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ ہمارے زمانے کے فقراء خدا تعالیٰ کے لئے عبادت کرنا ظاہر کرتے ہیں مگر دراصل وہ خدا کے لئے نہیں کرتے بلکہ مخلوق کے واسطے کرتے ہیں انہوں نے عجیب عجیب حالات ان لوگوں کے لکھے ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔ان کے لباس کے متعلق لکھا ہے کہ اگر وہ سفید کپڑے پہنتےہیں تو سمجھتے ہیںکہ عزّت میں فرق آئے گا اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر میلے رکھیں گے تو عزّت میں فرق آئے گا اس لئے امراء میں داخل ہونے کے واسطے یہ تجویز کرتے ہیں کہ اعلیٰ درجہ کے کپڑے پہنیں مگر ان کو رنگ لیتے ہیں اور ایسا ہی اپنی عبادتوں کو ظاہر کرنے کے لئے عجیب عجیب راہیں اختیار کرتے ہیں مثلاً روزہ کے ظاہر کرنے کے واسطے جب وہ کسی کے ہاں کھانے کے وقت پر پہنچتے ہیں اور وہ کھانے کے لئے اصرار کرتے ہیںتو یہ کہتے ہیں کہ آپ کھائیے میں نہیں کھائوں گا مجھے کچھ عذر ہے اس فقرہ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ مجھے روزہ ہے۔اس طرح پر حالات ان کے لکھے ہیں پس دنیا کی خاطر اور اپنی عزّت و شہرت کے لئے کوئی کام کرنا خدا تعالیٰ کی رضا مندی کا موجب نہیں ہوسکتا۔اس زمانہ میں بھی دنیا کی ایسی ہی حالت ہو رہی ہے کہ ہر ایک چیز اپنے اعتدال سے گر گئی ہے عبادات اور صدقات سب کچھ ریاکاری کے واسطے ہو رہے ہیں اعمال صالحہ کی جگہ چند رسوم نے لے لی ہے اس لئے رسوم کے توڑنے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ کوئی فعل یا قول قال اﷲ اور قال الرسول کے خلاف اگر ہو تو اسے توڑا جائے جبکہ ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور ہمارے سب اقوال و افعال اﷲ تعالیٰ کے نیچے ہونے ضروری ہیں پر ہم دنیا کی پروا کیوں کریں؟ جو فعل اﷲ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہو اس کو دور کر دیا جاوے اور چھوڑا جاوے۔جو حدود الٰہی اور وصایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے موافق ہوں ان پر عمل کیا جاوے کہ احیاء سنّت اسی کا