ملفوظات (جلد 2) — Page 272
نظیریں ملیں گی جن سے آخر کار جا کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ بالکل صحیح ہے۔اسی طرح پر میں ہمیشہ اس فکر میں رہتا ہوں اور سوچتا رہتا ہوں کہ کوئی راہ ایسی نکلے جس سے اﷲ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا اظہار ہو اور لوگوں کو اس پر ایمان پیدا ہو۔ایسا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے اور نیکیوں کے قریب کرتا ہے۔آمین کی تقریب اورمیں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کے مجھ پر لا انتہا فضل اور انعام ہیں ان کی تحدیث مجھ پر فرض ہے پس میں جب کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اﷲ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوتی ہے ایسا ہی اس آمین کی تقریب پر بھی ہوا ہے۔یہ لڑکے چونکہ اﷲ تعالیٰ کا ایک نشان ہیں اور ہر ایک ان میں سے خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کا زندہ نمونہ ہیں اس لئے میں اﷲ تعالیٰ کے ان نشانوں کی قدر کرنی فرض سمجھتا ہوں کیونکہ یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت اور خود اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں۔اس وقت جب انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے کلام کو پڑھ لیا تو مجھے کہا گیا کہ اس تقریب پر چند دعائیہ شعر جن میں اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکریہ بھی ہو لکھ دوں۔میں جیسا کہ ابھی کہا ہے کہ اصلاح کی فکر میں رہتا ہوں میں نے اس تقریب کو بہت ہی مبارک سمجھا اور میں نے مناسب جانا کہ اس طرح پر تبلیغ کر دوں۔۱ ہر کام میں نیت تقویٰ کی ہونی چاہیے پس یہ میری نیت اور غرض تھی۔چنانچہ جب میں نے اس کو شروع کیا اور یہ مصرعہ لکھا ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے تو دوسرا مصرعہ الہام ہوا اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ بھی میرے اس فعل سے راضی ہوا ہے قرآن شریف تقویٰ ہی کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اس کی علّتِ غائی ہے اگر انسان تقویٰ اختیار نہ کرے تو اس کی نمازیں بھی