ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 269

عمل ہو رہا ہے۔دو قسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں ایک گروہ تو ایسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل خلیع الرسن کر دیا ہے کہ دین کا کوئی اثر ہی ان پر نہیں ہوتا اور وہ کھلے طور پراسلام کے خلاف کرتی ہیں اور کوئی ان سے نہیں پوچھتا اور بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے خلیع الرسن تو نہیں کیا مگر اس کے بالمقابل ایسی سختی اور پابندی کی ہے کہ ان میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا اور کنیزکوں اور بہائم سے بھی بدتر ان سے سلوک ہوتا ہے۔مارتے ہیں تو ایسے بے درد ہو کر کہ کچھ پتہ ہی نہیں کہ آگے کوئی جاندار ہستی ہے یا نہیں۔غرض بہت ہی بری طرح سلوک کرتے ہیں یہاں تک کہ پنجاب میں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پائوں کی جوتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ ایک اتاردی دوسری پہن لی۔یہ بڑی خطرناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کو مطالعہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ آپؐایسے خلیق تھے باوجود یکہ آپ بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپ کو کھڑا کرتی تو آپ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔اپنے سودے خود خرید لایا کرتے تھے۔ایک بار آپؐ نے کچھ خریدنا تھا ایک صحابی نے عرض کی کہ حضور مجھے دے دیں آپ نے فرمایا کہ جس کی چیز ہو اس کو ہی اٹھانی چاہیے اس سے یہ نہیں نکالنا چاہیے کہ آپ لکڑیوں کا گٹھا بھی اٹھا کر لایا کرتے تھے غرض ان واقعات سے یہ ہے کہ آپ کی سادگی اور اعلیٰ درجہ کی بے تکلفی کا پتہ لگتا ہے آپؐپاپیادہ بھی چلا کرتے تھے اس وقت یہ کوئی تمیز نہ ہوتی تھی کہ کوئی آگے ہے یا پیچھے۔جیسا کہ آج کل وضعدار لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ کوئی آگے نہ ہونے پاوے یہاں تک سادگی تھی کہ بعض اوقات لوگ تمیز نہیں کرسکتے تھے کہ ان میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی داڑھی سفید تھی لوگوں نے یہی سمجھا کہ آپ ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن جب حضرت ابو بکر نے اٹھ کر