ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 257

میں بخل اور ضدّ نہیں تو میری بات سنیں اور میرے پیچھے ہو لیں پھر دیکھیں کہ کیا خدا تعالیٰ ان کو تاریکی میں چھوڑتا ہے جو نور کی طرف لے جاتا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ جو صبر اور صدق دل سے میرے پیچھے آتا ہے وہ ہلاک نہ کیا جاوے گا بلکہ وہ اسی زندگی سے حصہ لے گا جس کو کبھی فنا نہیں۔اس قدر لوگ جو میرے ساتھ ہیں اور جواب اس وقت موجود ہیں کیا ان میں سے ایک بھی ہے جو یہ کہے کہ اس نے کوئی نشان نہیں دیکھا؟ ایک نہیں سینکڑوں نشان خدا تعالیٰ نے دکھائے ہیں مگر نشانات پر ایمان کا حصر کرنا یہ ٹھوکر کھانے کا موجب ہو جایا کرتا ہے جس کا دل صاف ہے اور خدا ترسی اس میں ہے میں اس کے سامنے دوبارہ آنے کے متعلق حضرت عیسیٰ ؑ ہی کا فیصلہ پیش کرتا ہوں وہ مجھے سمجھاوے کہ یہودیوں کے سوال کے جواب میں (کہ مسیح سے پہلے ایلیا کا آنا ضروری ہے) جو کچھ مسیح نے کہا وہ صحیح ہے یا نہیں؟ یہودی تو اپنی کتاب پیش کرتے تھے کہ ملاکی نبی کے صحیفہ میں ایلیا کا آنا لکھا ہے مثیل ایلیا کا ذکر نہیں۔مسیحؑ یہ کہتے ہیں کہ آنے والا یہی یوحنا ہے چاہو تو قبول کرو۔اب کسی منصف کے سامنے فیصلہ رکھو اوردیکھو کہ ڈگری کس کو دیتا ہے؟ وہ یقیناً یہودیوں کے حق میں فیصلہ دے گا مگر ایک مومن جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا کے فرستادے کس طرح آتے ہیں وہ یقین کرے گا کہ مسیح نے جو کچھ کہا اور کیا وہی صحیح اور درست ہے اب اس وقت وہی معاملہ ہے یا کچھ اور؟ اگر خدا کا خوف ہو تو پھر بدن کانپ جاوے یہ کہنے کی جرأت کرتے ہوئے کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔افسوس اور حسرت کی جگہ ہے کہ ان لوگوں میں اتنا بھی ایمان نہیں جتنا کہ اس شخص کا تھا جو فرعون کی قوم میں سے تھا اور جس نے کہا کہ اگر یہ کاذب ہے تو خود ہلاک ہو جائے گا۔میری نسبت اگر تقویٰ سے کام لیا جاتا تو اتنا ہی کہہ دیتے اور دیکھتے کہ کیا خدا تعالیٰ میری تائیدیں اور نصرتیں کر رہا ہے یا میرے سلسلہ کو مٹا رہا ہے۔قرآن کریم کے مقابلہ میں سُنّت اور حدیث کا درجہ میری مخالفت میں ان لوگوں نے قرآن شریف کو بھی چھوڑ دیا ہے۔میں قرآن شریف پیش کرتا ہوں اور یہ اس کے مقابلہ میں احادیث کو پیش کرتے ہیں مگر