ملفوظات (جلد 2) — Page 252
اور یہ ابتلا ان کو پیش آگیا کہ ایلیا کا آسمان سے آنا مسیح کے آنے سے پہلے ضروری ہے اب انصاف شرط ہے۔اگر یہ فیصلہ کسی جج کے سامنے پیش ہو تو وہ بھی یہودیوں ہی کے حق میں ڈگری دے گا کیونکہ یہ صاف طور پر لکھا گیا تھا کہ ایلیا آئے گا اوراس سے پہلے کوئی نظیر اس قسم کے بروز کی ان میں موجود نہ تھی جو مسیح نے یوحنا کو ایلیا بنایا۔اب اگر چہ ہم ان کتابوںکی بابت تو یہی کہتے ہیں کہ فَلَاتُصَدِّقُوْا وَ لَا تُکَذِّبُوْا لیکن یہ بھی ساتھ ہی ضروری بات ہے کہ قرآن شریف میں یہ آیا ہے۔فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ( النّحل : ۴ ۴ ) علاوہ بریں اس قصہ ایلیا کی قرآن شریف نے کہیں تکذیب او رتردید نہیں کی اور یہودی اور عیسائی دونوں قومیں بالاتفاق اس کو صحیح مانتی ہیں۔اگر یہ قصہ صحیح نہ ہوتا تو عیسائیوں کا حق تھا کہ وہ بول پڑتے اوراس کی تکذیب کرتے خصوصاً ایسی حالت میں کہ اگر اس قصہ کو غلط کہا جائے تو عیسائیوں کے لیے ان مشکلات سے نجات اور مخلصی ہے جواس کو صحیح مان کر انہیں پیش آتی ہیں لیکن جبکہ انہوں نے تکذیب نہیں کی اوراس کوصحیح تسلیم کر لیا ہے پھر کوئی وجہ نہیںہوسکتی کہ ہم بلاوجہ تکذیب پر آمادہ ہوں۔حق یہی ہے کہ یہودیوں میں یہ خبر صحیح موجود تھی کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا آئے گا۔مسیح علیہ ا لسلام کافیصلہ اور اسی لیے جب مسیح آگیا تو وہ مشکلات میں پڑ ے اور انہوں نے مسیح سے ایلیا کے متعلق سوال کیا اور مسیح نے یوحنا کی صورت میں اس کے آنے کو تسلیم کر لیا۔یہاںسے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگریہ پیشگوئی صحیح نہ ہوتی تو سب سے پہلے مسیح کا یہ حق تھا کہ وہ بجائے اس کے کہ یہ کہتے کہ آنے والا ایلیایوحنا ہی ہے، یوں جواب دیتے کہ کوئی ایلیا آنے والا نہیں ہے۔مسیح نے اگر اس کو صحیح تسلیم نہ کیاہوتا تو وہ یوحنا کی شکل میں ایلیا کو نہ اتارتے۔یہ چھوٹی اور معمولی سی بات نہیں۔مسیح کا یہودیوں کے اس اعتراض کو مان کر اس کا جواب دینا بھی اس امر کی روشن دلیل ہے کہ وہ بجائے خود اس امر کوصحیح اوریقینی سمجھتے تھے۔یہودیوں کایہ عذر بہر حال قابل پذیرائی تھا اور مسیح نے اس کو قبول کر کے یہی جواب دیا کہ آنے والا ایلیا یوحنا ہی ہے چاہو تو قبول کر و۔اب اگر استعارات کچھ چیز نہیں اورخدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں میں یہ جزو اعظم