ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 250

اور آسمان سے تو یونہی اتر آئے گا مگر دمشق کے منارہ پر آکر سیڑھی کے بغیر نہ اترے گا اور دجال مُردوں کو زندہ کردے گا وغیرہ۔بہت سی باتیں ہیں جو نزول المسیح کے متعلق ان لوگوں نے بنا رکھی ہیں اور دجال کے لئے کہتے ہیں کہ وہ کانا ہوگا مگر کیا دجّال اس کے لئے یہ نہیں کہہ سکے گا کہ وہ اس لئے کانا ہے کہ وحدہٗ لاشریک ہے اور سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہے اب ان باتوں پر اگر دانش مند غور کرے تو خود اس کو ہنسی آئے گی کہ کیا کہتے ہیں۔ہم نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ خیالی امور نہیں بلکہ یقینی باتیں ہیں جن کے ساتھ نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ ہیں اور تائیدات الٰہیہ بھی ہیں جو آج نہیں سمجھتا وہ آخر سمجھے گا۔اﷲ تعالیٰ کے نور کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔پیشگوئیوں میں استعارات کا استعمال یاد رکھو! الفاظ کے معنے کرنے میں بڑی غلطی کھاتے ہیں۔بعض وقت الفاظ ظاہر پر آتے ہیں اور بعض اوقات استعارہ کے طور پر آتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب سے پہلے لمبے ہاتھوںوالی بی بی فوت ہوں گی۔اور آپؐکے سامنے ساری بیبیوں نے باہم ہاتھ ناپنے بھی شروع کردئیے اور آپ نے منع بھی نہ فرمایا لیکن جب بی بی زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوگیا تو اس کے معنے کھلے کہ لمبے ہاتھوں والی سے مراد اس بی بی سے تھی جو سب سے زیادہ سخی تھی۔ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے کلام میں ایسی آیتیں موجود ہیں جن کے اگر ظاہر معنے کئے جائیں تو کچھ بھی مطلب نہیں نکل سکتا جیسے فرمایا مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى ( بنی اسـرآءیل : ۷۳ ) اب آپ وزیر آباد میں ہی حافظ عبدالمنان سے جواس سلسلہ کا سخت دشمن ہے دریافت کریں کہ کیا اس آیت کایہی مطلب ہے کہ جواس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اُٹھایا جائے گا ؟ یا ظاہر پر اس سے مراد نہیںلی جاتی کچھ اور مطلب ہے۔یقیناً اس کویہی کہنا پڑے گا کہ بے شک اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہر اندھا اورنابینا قیامت کو بھی اندھا اور نابینا اٹھے بلکہ اس سے مراد معرفت اور بصیرت کی نابینائی ہے۔جب یہ بات ثابت ہے کہ الفاظ میں استعارات بھی ہوتے ہیں اور خصوصاً پیشگوئیوں میں تو پھر مسیح