ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 240

ان سب کے علاوہ ایک اور سرّ بھی ہے جو مماثلت کو مکمل کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیحؑ اخلاقی تعلیم پر زیادہ زور دیتے تھے اور موسوی جہادوںکی اصلا ح کرنے آئے تھے۔انہوں نے کوئی تلوار نہیں اٹھائی۔مسیح موعود کے لئے بھی یہی مقرر تھا کہ وہ اسلام کی خوبیوں کو تعلیم کی عملی سچائیوں سے قائم کرے اوراس اعتراض کو دور کرے جو اسلام پر اسی رنگ میں کیا جاتا ہے کہ وہ تلوار کے ذریعہ پھیلایاگیا ہے۔یہ اعتراض مسیح موعود کے وقت میں بالکل اٹھا دیا جاوے گا کیونکہ وہ اسلام کے زندہ برکات اور فیوض سے اس کی سچائی کودنیا پر ظاہر کرے گااور اس سے یہ ثابت ہوگا کہ جیسے آج اسی ترقی کے زمانہ میں بھی اسلام محض اپنی پاک تعلیم اوراس کے برکات اور ثمرات کے لحاظ سے مؤثر اور مفید ہے ایسا ہی ہمیشہ اور ہر زمانہ میںمفید اورمؤثر پایاگیاہے کیونکہ یہ زندہ مذہب ہے۔یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آنے والے مسیح موعود کی پیشگوئی فرمائی اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا۔یَضَعُ الْـحَرْبَ وہ لڑائیوںکو اٹھادے گا۔اب ان ساری شہادتوںکوجمع کر واوربتاؤ کہ کیااس وقت ضرورت نہیں کہ کوئی آسمانی مرد نازل ہو؟ جب یہ مان لیا گیا کہ صدی پر مجدّد آناضروری ہے تو اس صدی پر مجدّد تو ضرور ہوگا پھرجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت موسیٰ سے ہے تواس مماثلت کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اس صدی کا مجدّد مسیح ہوکیونکہ چودھویں صدی پر موسیٰ کے بعد آیا تھا اور آجکل چودھویں صدی ہے۔چودہ کے عدد کوروحانی تغیّر سے مناسبت ہے چودہ کے عدد کو بڑ ی مناسبت ہے چودھویں صدی کاچاند کامل ہوتاہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ( اٰل عـمران : ۱۲۴ ) میں اشارہ کیا ہے یعنی ایک بدر تو وہ تھا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخالفوں پر فتح پائی اس وقت بھی آپؐکی جماعت قلیل تھی اور ایک بدر یہ ہے۔بدر میں چودھویں صدی کی طرف اشارہ ہے اس وقت بھی اسلام کی حالت اَذلّہ کی ہورہی ہے سو ان سارے وعدوں کے موافق اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیاہے۔