ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 235

ہے کہ اندرونی طور پر وہ بدعات اور مشرکانہ رسوم ہیں اور بیرونی طور پر یہ آفتیں۔خصوصاً صلیبی مذہب نے جو نقصان پہنچایا ہے اسلام وہ مذہب تھا کہ اگر ایک آدمی بھی اس سے نکل جاتا اور مرتد ہو جاتا تو قیامت برپا ہو جاتی اور یا اب یہ حالت ہے کہ مرتدوں کی انتہا ہی نہیں رہی۔خدا تعالیٰ کی خاص تجلّی کی ضرورت اب ان تمام امور کو یکجا ئی طور پر کوئی عقل مند سوچے اور خدا کے لئے غور کرے کہ کیا خدا کی خاص تجلی کی ضرورت نہیں ؟کیا ابھی تک اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ حفاظت کے پورا ہونے کا وقت نہیں کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ( الـحجر : ۱۰ )؟ اگر اس وقت اس کی مدد اورتجلی کی ضرورت نہیں تو کوئی ہمیں بتائے کہ وہ وقت کب آئے گا۔غور کرو اور سوچو! کہ ایک طرف تو واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس قسم کی ضرورتیں پیدا ہو گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص تجلی فرمائے اور اپنے دین کی نصرت عملی سچائیوں اور آسمانی تائیدات سے کر کے دکھا وے۔دوسری طرف صدی نے مہر لگا دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے موافق ( جو اس کے برگزیدہ اور افضل الرسل رسول خاتم الا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہو اکہ ہر صدی کے سر پر تجدیددین کے لیے مجدّد بھیجا جاوے گا) کوئی مجدّد آناچاہیے۔صدی میں سے انیس برس گذر گئے اگر اب تک باوجود ان ضرورتوں کے پیدا ہوجانے کے بھی کوئی مامور مبعوث نہیں ہو اتو پھر خدا کے لیے غور کرو کہ ا س میں اسلام کا کیا باقی رہتا ہے؟ کیا اس سے اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ کے وعدہ کا خلاف ثابت نہ ہوگا ؟ کیا اس سے ارسال مجدّد کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باطل نہ ہوگی؟ کیا یہ نہ پایا جاوے گا کہ اسلام ایسا مذہب ہے کہ اس پر ایسی آفتیں آئیں اور خدا تعالیٰ کو اس کے لیے غیرت نہ آئی؟ پیشگوئی اور بشارات کے موافق خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا اب کوئی ہمارے دعویٰ کو چھوڑے اور الگ رہنے دے مگر ان باتوں کا سوچ کر جواب دے۔میری تکذیب کر وگے تو اسلام کو ہاتھ سے تمھیں دینا پڑے گامگر میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے وعدہ کے موافق اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی