ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 229

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۹ جلد دوم ہیں۔ اول تو یہ کہ رمضان میں ایک رات لیلتہ القدر کی ہوتی ہے۔ دوم یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ایک لیلتہ القدر تھا یعنی سخت جہالت اور بے ایمانی کی تاریکی کے بعد وہ زمانہ آیا جبکہ ملائکہ کا نزول ہوا کیونکہ نبی دنیا میں اکیلا نہیں آتا بلکہ وہ بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں ملائکہ کا لشکر ہوتا ہے۔ جو ملائک اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں ۔ سوم لیلۃ القدر انسان کے لئے اس کا وقت اصفی ہے۔ تمام وقت یکساں نہیں ہوتے ۔ بعض وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کو کہتے کہ آرِحْنَا يَا عَائِشَةُ یعنی اے عائشہ مجھ کو راحت و خوشی پہنچا اور بعض وقت آپ بالکل دعا میں مصروف ہوتے۔ جیسا کہ سعدی نے کہا ہے۔ وقتے چنیں بودے کہ بجبرئیل و میکائیل پرداختی و دیگر وقت با حفصه و زینب در ساختے جتنا جتنا انسان خدا کے قریب آتا ہے یہ وقت اسے زیادہ میسر آتا ہے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ پوری مدت دعا کی حاصل ہو یہاں تک کہ خواب یا وحی سے اللہ تعالیٰ خبر دے۔ محبت و اخلاص والے کو جلدی نہیں چاہیے بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کرنا چاہیے۔' ۲۶ یا ۷ ۲ را گست ۱۹۰۱ ء یا اس کے قریب ایک دن حضرت نے فرمایا۔ ایک رویا ہم نے رویا میں دیکھا ہے کہ ایک شخص نے تقے کی ہے اور اس پر کپڑا دے کر اسے چھپاتا ہے۔ مدان میں پیری مریدی کا سلسلہ مدت سے چلا آتا ہے کرامات اولیاء ایک صاحب جن کے خاندان اور ہزاروں ان کے مرید ہیں اور وہ خود بھی پیر تھے مگر اب ان سلسلوں کو ترک کر کے اس سلسلہ الہیہ میں شامل ہیں۔ انہوں نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ زمانہ پیری میں ہم لوگوں کی اکثر جھوٹی کرامتیں مشہور تھیں اور بہت لوگ ہمارے مرید اور معتقد تھے۔ میں نے ایک دفعہ اپنے بھائی سے ذکر کیا اور دل میں کئی بار خطرہ گزرا کہ ہمارے والد صاحب کی جو کرامتیں مشہور ہیں وہ بھی اسی طرح کی ہوں گی جس طرح کی ہماری ہیں۔ پھر ہم نے سوچا کہ شیخ عبد القادر جیلانی اور دوسرے بزرگوں کا بھی یہی حال ہوگا۔ غرض میں اسی خیال میں ترقی کرتا ہوا قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی بدگمان الحکم جلد ۵ نمبر ۳۲ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۱۳ ، ۱۴