ملفوظات (جلد 2) — Page 230
ہو جاتا اور معاذ اللہ خدا تعالیٰ کا بھی انکار کرتا کہ خوش قسمتی سے مجھے آپ کی زیارت نصیب ہوئی اور حق مل گیا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔بے شک ان گدی نشینوں اور اس قسم کے پیروں کے ایمان خطرہ میں ہیں۔لیکن اس قسم کی جھوٹی کرامتوں کے دکھلانے والے اور جھوٹی کرامتوں کے مشہور ہونے سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ سب جھوٹے ہی ہیں۔اور تمام سلسلہ اولیاء کا اور بزرگانِ دین کا سب مکّاری اور فریب پر مبنی تھا بلکہ ان جھوٹے ولیوں کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں سچے ولی بھی ضرور ہیں کیونکہ جب تک کوئی سچی بات نہ ہو تب تک جھوٹی بات نہیں بنائی جاتی مثلاً اگر دنیا میںسچا اور اصلی سونا نہ ہوتا تو کیمیا گر کبھی جھوٹا سونا نہ بناتا۔اگر سچے ہیرے اور موتی کانوںسے نہ نکلتے تو جھوٹے ہیرے اور موتی بنانے کا کسی کو خیال نہ پیدا ہوتا۔ان جھوٹوں کا ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ سچے ضرور ہیں۔۲۸؍اگست۱۹۰۱ء کی صبح کو حضرت نے فرمایا کہ آئندہ کے متعلق ایک نظارہ ہمارے مخالف دو قسم کے لوگ ہیں۔ایک تو مسلمان مُلّا مولوی وغیرہ۔دوسرے عیسائی انگریز وغیرہ۔دونوں اس مخالفت میں اور اسلام پر ناجائز حملے کرنے میں زیادتی کرتے ہیں۔آج ہمیں ان دونوں قوموں کے متعلق ایک نظارہ دکھایا گیا اور الہام کی صورت پیدا ہوئی مگر اچھی طرح یاد نہیں رہا۔انگریزوں وغیرہ کے متعلق اس طرح سے تھا کہ ان میں بہت لوگ ہیں جو سچائی کی قدر کریں گے اور مُلّا مولویوں وغیرہ کے متعلق یہ تھا کہ ان میں سے اکثر کی قوت مسلوب ہو گئی ہے۔آدابِ دعا دعا کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا۔دعا کے لئے رقّت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں۔یہ مناسب نہیں کہ انسان مسنون دعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ ان کوجنتر منترکی طرح پڑھتا رہے اور حقیقت کو نہ پہچانے۔اتباع سنّت ضروری ہے ،مگر تلاش رقّت بھی اتباع سنّت ہے۔اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو