ملفوظات (جلد 2) — Page 228
کے لئے ہم د س باتوں میں سے نو باتیں چھوڑ دیتے ہیں۔چاہیے کہ احتمالات کا سد باب کیا جاوے۔دیکھو! ہمارے مخالفوں نے اس قدر تائیدات اور نشانات دیکھے ہیں کہ اگر ان میں تقویٰ ہوتا تو کبھی رو گردانی نہ کرتے۔ایک کریم بخش کی گواہی ہی دیکھو جس نے رو رو کر اپنے بڑھاپے کی عمر میں جبکہ اس کی موت بہت قریب تھی یہ گواہی دی کہ ایک مجذوب گلاب شاہ نے پہلے سے مجھے کہا تھا کہ عیسیٰ قادیان میں پیدا ہو گیا ہے اور وہ لدھیانہ میں آوے گا اور تو دیکھے گا کہ مولوی اس کی کیسی مخالفت کریں گے۔اس کا نام غلام احمد ہو گا۔دیکھو یہ کیسی صاف پیش گوئی ہے جو اس مجذوب نے کی۔کریم بخش کے پابند صوم و صلوٰۃ ہونے اور ہمیشہ سچ بولنے پر سینکڑوں آدمیوں نے گواہی دی جیسا کہ ازالہ اوہام میں مفصّل درج ہے۔اب کیا تقویٰ کا یہ کام ہے کہ اس گواہی کو جھٹلایا جاوے۔تقویٰ کے مضمون پر ہم کچھ شعر لکھ رہے تھے اس میں ایک مصرعہ الہامی درج ہوا وہ شعر یہ ہے۔؎ ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتّقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے اس میں دوسرا مصرعہ الہامی ہے۔جہاں تقویٰ نہیں وہاں حسنہ حسنہ نہیں اور کوئی نیکی نیکی نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی تعریف میں فرماتا ہے کہ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ (البقرۃ:۳) قرآن بھی ان لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔ابتدا میں قرآن کے دیکھنے والوں کا تقویٰ یہ ہے کہ جہالت اور حسداور بخل سے قرآن شریف کو نہ دیکھیں بلکہ نور قلب کا تقویٰ ساتھ لے کر صدقِ نیت سے قرآن شریف کو پڑھیں۔دوسری شرط قبولیت دعا کے واسطے یہ ہے کہ جس کے واسطے انسان دعا کرتا ہو۔اس کے لئے دل میں درد ہو اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ ( النمل :۶۳)۔تیسری شرط یہ ہے کہ وقت اصفٰی میسر آوے۔ایسا وقت کہ بندہ اور اس کے رب میں کچھ حائل نہ ہو۔قرآن شریف میں جو لیلۃ القدر کا ذکر آیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہاں لیلۃ القدر کے تین معنی