ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 227

کسی بات کا اثر دو طرح پر قائم رہتا ہے۔اعتقاد اً و عملاً۔اعتقادی طور پر سارے مسلمان کلمہ طیّبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر قائم ہیں اور عملی طور پر مثلاً سور کا نہ کھانا تمام مسلمانوں میں خواہ وہ کسی فرقہ یا ملک کے ہوں سب میں نہایت قوت کے ساتھ اس پر عمل ہوتا ہے۔بدی کے ارتکاب میں سے جھوٹ بولنا سب سے زیادہ آسان اور جلدی ہو سکنے والا ہے کیونکہ زنا، چوری وغیرہ کے واسطے قوت، مال، ہمت، دلیری چاہیے مگر جھوٹ کے واسطے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔صرف زبان ہلا دینی پڑتی ہے۔باوجود اس کے صحابہؓ میں جھوٹ ثابت نہیں۔آنحضرت کے اصحاب میں سے کسی نے بھی جھوٹ نہیں بولا۔دیکھو! کتنا بڑا اثر ہے لیکن اس کے مقابل حضرت عیسیٰ کے حواریوں میں دیکھو۔اپنے نبی کا عین اس کی گرفتاری کے وقت انکار کر دیا۔ایک نے تیس روپے لے کر اس کو پکڑ وا دیا۔ایک حواری کہتا ہے کہ مسیح نے ایسے نشان دکھائے کہ اگر لکھے جائیں تو دنیامیں نہ سمائیں۔دیکھو! یہ کتنا جھوٹ ہے۔جو باتیں دنیا میں ہوئیں اور ہونے کے وقت سما گئیں وہ بعد میں کیونکر نہ سما سکتیں۔قبولیتِ دعا کے شرائط فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں سب سے زیادہ قبول ہوئیں۔قبولیّت دعا کے واسطے چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے۔تب کسی کے واسطے دعا قبول ہوتی ہے۔شرط اوّل یہ ہے کہ اتقا ہو یعنی جس سے دعا کرائی جاوے وہ دعا کرنے والا متّقی ہو۔تقویٰ احسن واکمل طور پر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پایا جاتا تھا۔آپ میں کمال تقویٰ تھا۔اصول تقویٰ کا یہ ہے کہ انسان عبودیت کو چھوڑ کر الوہیت کے ساتھ ایسا مل جاوے جیسا کہ لکڑی کے تختے دیوار کے ساتھ مل کر ایک ہو جاتے ہیں۔اس کے اور خدا کے درمیان کوئی شے حائل نہ رہے۔امور تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک یقینی بدیہی یعنی ظاہر دیکھنے میں ایک بات بُری یا بھلی ہے۔دوم یقینی نظری یعنی ویسا یقین تو نہیں مگر پھر بھی نظری طور پر دیکھنے میں وہ امر اچھا یا برا ہو۔سوم وہ امور جو مشتبہ ہوں یعنی ان میں شبہ ہو کہ شاید یہ بُرے ہوں۔پس متّقی وہ ہے کہ اس احتمال اور شبہ سے بھی بچے اور تینوں مراتب کو طے کرے۔حضرت عمر کا قول ہے کہ شبہ اور احتمال سے بچنے