ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 222

زاں بعد پھر اسی قرآن فروش نے کہا کہ یا امام پاک!نبیوں نے تو خدا کے کلام کو واپس نہیں کیا۔آپ تو امام پاک ہیں آپ کیوں واپس کرتے ہیں؟حضرت نے فرمایا۔تم نے نبیوں کو کہاں دیکھا ہے؟ اس نے کہا کہ یا حضرت آپ کو تو دیکھا ہے۔فرمایا۔تم نے ہم کو بھی نہیں دیکھا۔اگر تم دیکھتے تو ایسی بے جا حرکت نہ کرتے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ چلا گیا۔پھر ڈاکٹر رحمت علی صاحب کچھ اپنے مقامی حالات سناتے رہے۔اور گورنمنٹ انگلشیہ کی حکومت کی برکات کا ذکر کرتے رہے کہ اس نے فوجوں میں نماز اور اپنے مذہب کی پابندیوں کے لئے پورا وقت اور فرصت دے رکھی ہے۔بشرطیکہ کوئی کرنے والا ہو۔ہر مذہب کے لوگوں کے لئے ایک ایک مذہبی پیشوا مقرر کر رکھا ہے اور نماز کے اوقات میں کوئی کام نہیں رکھا۔ہاں جمعہ کی تکلیف ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ تکلیف بھی جاتی رہتی اگر سب مسلمان مل کر درخواست کرتے مگر ان کم بختوں نے تو ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر جمعہ کی فرضیت کو ہی اڑانا چاہا ہے۔افسوس! احتیاطی نماز پھر اس شخص نے جس کا ذکر یکم اگست کی شام میںآیا ہے سوال کیا کہ حضرت احتیاطی نماز کے لئے کیا حکم ہے فرمایا۔احتیاطی نماز کیا ہوتی ہے۔جمعہ کے تو دو ہی فرض ہیں۔احتیاطی فرض کچھ چیز نہیں۔فرمایا۔لدھیانہ میں ایک بار میاں شہاب الدین بڑے پکے موحّد نے جمعہ کے بعد احتیاطی نماز پڑھی۔میں نے ناراض ہو کر کہا کہ یہ تم نے کیا کیا؟تم تو بڑے پکے موحّد تھے۔اس نے کہا کہ میں نے جمعہ کی احتیاطی نہیں پڑھی بلکہ میں نے مار کھانے کی احتیاطی پڑھی ہے۔مسیح موعود کے حنفی مذہب پر ہونے سے مراد اس کے بعد مولوی بہاؤالدین صاحب احمد آبادی نے پوچھا کہ مکتوبات امام ربّانی