ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 217

چوٹی کو دیکھتا ہوں۔ریت پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے لفظ جُودی رکھا ہے۔جس کے معنے ہیں میرا جود و کرم یعنی وہ کشتی میرے جودو کرم پر ٹھہری۔جہاد آخِرُ الحِیَل ہے فرمایا۔نادان مولوی ذرا ذرا بات پر جہاد کا فتویٰ دیتے ہیں حالانکہ جہاد تو آخر الحیل تھا۔یہ اس کو اول الحیل بناتے ہیں۔کو ئی بد ذات کسی طرح بھی باز نہ آوے تب حکم تھا کہ تلوار چلاؤ اور یہ بات صاف ہے کہ جب تمام مسائل سنائے جائیں، روشن دلائل دیئے جائیں تسپر بھی خدا کا نمک حرام، خدا کے نشانات کا نمک حرام باز نہ آوے اور دین میں سدِّ راہ بنے تو ایسے کے لئے خس کم جہاں پاک کہنا بے جا نہیں۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تلوار نہیں اٹھائی۔صرف مدافعت کے لئے ایسا کیا گیا اور سچ یہ ہے کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر انہوں نے تلوار اٹھائی۔آخر وہ تلوار ا نہیں کی ان پر پڑی۔ہم بحث کرنا نہیں چاہتے ایک شخص نے کہلا بھیجا کہ میںہندو ستان سے کوئی مولوی اپنے ساتھ لاؤں گا جو آپ کے ساتھ گفتگو کرےمگر مولوی لوگ قادیان آنا پسند نہیں کرتے۔آپ بٹالہ میںآجائیں۔فرمایا۔قادیان سے وہ لوگ اسی واسطہ نفرت رکھتے ہیں کہ میں قادیان میں ہوں۔پھر اگر میں بٹالہ میں ہوا تو بٹالہ ان کے لئے نفرت کا مقام بن جائے گا ،قادیان میں وہ ہمارے پاس نہ ٹھہریں۔کسی اور کے پاس جہاں چاہیں قیام کریں۔یہاں دہریئے موجود ہیں ان کے پاس ٹھہریں۔ہم بحث کرنا نہیں چاہتے۔ہمارا مطلب صرف سمجھا دینا ہے۔اگر ایک دفعہ ان کو تسلی نہ ہووے پھر سنیں پھر سنیں۔وفات مسیح علیہ السلام فرمایا۔اس دنیا سے اس جہان میں جانے کے لئے مُردوں کے واسطے تو ایک راہ بنا ہوا ہے اور مُردے ہمیشہ جایا کرتے ہیں مگر اس کے سوا اورکوئی دوسری سڑک نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح بھی اسی مُردوں والی سڑک کی راہ گئے جو مُردوں میں جا بیٹھے ورنہ حضرت یحییٰ کے پاس کیوں کر جا بیٹھے؟