ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 213

دراصل اس آیت میں بھی اشارہ ہے کہ ہر ایک مومن جو اپنے تئیں اس کمال کو پہنچائے خدا کی روح اس میں پھونکی جا تی ہے اور وہ ابن مریم بن جاتا ہے اور اس میں ایک پیش گوئی ہے کہ اس امت میں ابن مریم پیدا ہو گا۔تعجب ہے کہ لوگ اپنے بیٹوں کا نام محمد اور عیسیٰ اور موسیٰ اور یعقوب اور اسحاق اور اسماعیل اور ابراہیم رکھ لیتے ہیں اور اس کو جائز جانتے ہیں پر خدا کے لئے جائز نہیں جانتے کہ وہ کسی کا نام عیسیٰ یا ابن مریم رکھ دے۔امام بطور وکیل کے ہوتا ہے کسی کے سوال پر فرمایا۔مخالف کے پیچھے نماز بالکل نہیں ہوتی۔پرہیزگار کے پیچھے نماز پڑھنے سے آدمی بخشا جاتا ہے۔نماز تو تمام برکتوں کی کنجی ہے۔نماز میں دعا قبول ہوتی ہے۔امام بطور وکیل کے ہوتا ہے۔اس کا اپنا دل سیاہ ہو تو پھر وہ دوسروں کو کیا برکت دے گا۔یہود کی ہٹ دھرمی فرمایا۔یہود کہا کرتے ہیں کہ ہم تو قیامت کے دن خدا کے آگے ملاکی نبی کی کتاب رکھ دیں گے اور کہہ دیں گے کہ اس کتاب میں تو نے فرمایا تھا کہ مسیح کے پہلے الیاس نبی آئے گا اور تو نے یہ نہیں کہا تھا کہ مثیل الیاس یا اس کا بروز یوحنا کی شکل میں آئے گا۔اب اگر یہ مسیح سچا ہے اور ہم نے اس کو نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور۔یہی حال آجکل کے علماء کا ہے جو مسیح کے منتظر ہیں۔اس بات کا ذکر آیا کہ حضرت مسیح نے جب یہود کو کہا کہ یوحنا ہی الیاس ہے تو وہ یوحنا کے پاس گئے اور معلوم نہیں کن الفاظ میں ان سے پوچھا کہ تو الیاس ہے؟ تو یوحنا نے انکار کیا کہ میں الیاس نہیں ہوں اور اسی طرح حضرت مسیح کی تکذیب ہوئی۔اس پر فرمایا کہ معلوم نہیںکہ یہودیوں نے کس طرح سے دھوکے کی گفتگو کی ہو گی۔یوحنا کو کیا خبر تھی کہ یہ کیا شرارت کرتے ہیں۔یہ دعویٰ غلط ہے کہ پیغمبر خدا کی طرح ہر وقت حاضر ناظر ہوتے ہیں۔اگر یہ بات سچی ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کے متعلق کیوں گھبراہٹ ہوتی یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔سعدی نے خوب لکھا ہے۔