ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 212

غصہ کا کیا حال ہے فرمایا۔غصہ تو اب بھی وہی ہے مگر پہلے اس کا استعمال بے جا تھا۔اب ٹھکانہ پر لگ گیا ہے۔یہ اعتراض تو صانع پر ہوتا ہے کہ اس نے غصہ کی قوت کیوں بنائی؟دراصل کوئی بھی قوت بُری نہیں۔بد استعمالی بُری ہے۔قرآن شریف ہمیں انجیل کی طرح یہ حکم نہیں دیتا کہ خواہ مخواہ مار کھاتے رہو۔ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ موقع دیکھو۔اگر نرمی کی ضرورت ہے خاک سے مل جاؤ۔اگر سختی کی ضرورت ہے سختی کرو۔جہاں عفو سے صلاحیت پیدا ہوتی ہو وہاں عفو سے کام لو۔نیک اور باحیا خدمت گار اگر قصور کرے تو بخش دو۔مگر بعض ایسی خیرہ طبع ہوتے ہیں کہ ایک دن بخشو تو دوسرے دن دگنا بگاڑ کرتے ہیں وہاں سزا ضروری ہے اور عملی طور پر انجیل میں سختی دکھائی گئی ہے۔جہاں حضرت مسیح نے مخالفین کو بے ایمانوں اور سانپوں اور سانپوں کے بچے کہا ہے۔خدا نے بھی جھوٹے پر لعنت کی ہے اور دیگر اس قسم کے لفظ استعمال فرمائے ہیں۔مومن کی دو مثالیں فرمایا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومن کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ایک مثال فرعون کی عورت سے ہے جو کہ اس قسم کے خاوند سے خدا کی پناہ چاہتی ہے۔یہ ان مومنوں کی مثال ہے جو نفسانی جذبات کے آگے گر گر جاتے ہیں اور غلطیاں کر بیٹھتے ہیں پر پچھتاتے ہیں، توبہ کرتے ہیں، خد اسے پناہ مانگتے ہیں۔ان کا نفس فرعون سے خاوند کی طرح ان کو تنگ کرتا رہتا ہے۔وہ لوگ نفسِ لوّامہ رکھتے ہیں۔بدی سے بچنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔دوسرے مومن وہ ہیں جو اس سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں۔وہ صرف بدیوں سے ہی نہیں بچتے بلکہ نیکیوں کوحاصل کرتے ہیں ان کی مثال اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سے دی ہے۔اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا ( التحریم : ۱۳ ) ہر ایک مومن جو تقویٰ و طہارت میں کمال پیدا کرے وہ بروزی طور پر مریم ہوتا ہے اور خدا اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے۔جو کہ ابن مریم بن جاتی ہے۔زمخشری نے بھی اس کے یہی معنی کیے ہیں کہ یہ آیت عام ہے اور اگر یہ معنی نہ کیے جاویں تو حدیث شریف میں آیا ہے کہ مریم اور ابن مریم کے سوا مسِّ شیطان سے کوئی محفوظ نہیں۔اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ تمام انبیاء پر شیطان کا دخل تھا۔پس