ملفوظات (جلد 2) — Page 211
برخلاف ہے۔بابو محمد صاحب نے ذکر کیا کہ انہوں نے عصائے موسیٰ میں کئی باتیں واقعات کے بَر خلاف لکھی ہیں۔اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہم نے ضرورۃ امام میں یہ ظاہر کیا تھا کہ ہمیں ان پر حُسنِ ظن ہے مگر افسوس کہ انہوں نے اس طرح واقعات کے بَر خلاف امور لکھ کر ہمارے اس حُسنِ ظن کو دور کر دیا ہے۔کسی دوسرے شخص کی عبارت نقل کر کے الٰہی بخش صاحب میری نسبت اور میرے والدصاحب کی نسبت ہتک کے لفظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ ایسے مفلس تھے۔تقویٰ کا خاصہ نہیں ہے کہ محض جھوٹ نقل کرے۔ناقل بھی تو ذمہ دار ہوتا ہے۔اگر الٰہی بخش صاحب کے ساتھ ہمارے تعلقات ایسے پرانے نہ ہوتے اور وہ ہمارے خاندان کے حالات سے واقفیت نہ رکھتے اور کسی دور علاقہ کے رہنے والے ہوتے اور سَر لیپل گریفن کی کتاب رؤسائے پنجاب میں میرے والد صاحب کا ذکر نہ پڑھا ہوتا اور غدر میں سرکار انگریزی کو پچاس سواروں کی مدد کے حال سے وہ نا واقف ہو تے تو میں ان کو معذور سمجھتا مگر اب تو ان کے تقویٰ کا خوب اندازہ ہو گیا۔فرمایا۔ساری کل انسان کی صحت اور ایمان کی خدا کے ہاتھ میں ہے۔تحریر میں سختی کسی نے ذکر کیا کہ کوئی اعتراض کرتا تھا کہ مولوی عبد الکریم صاحب کی تحریر میں سختی ہوتی ہے فرمایا۔ہر ایک امر کے لئے موقع ہوتا ہے۔ایک مولوی کو عین مسجد میں بد کاری کرتے ہوئے دیکھے تو دیکھنے والاضرور کہے گا کہ یہ بد ذات ہے۔دین کی بے عزتی کرتا ہے مگر جو شخص نہیں جانتاکہ محل اور موقع کو ن سا ہے وہ دھوکا کھا تا ہے۔ایک شخص خواہ مخواہ افترا کرتا ہے۔بہتان باندھتا ہے، گالیاں دیتا ہے۔ایک نہ دو نہ تین بلکہ بیسیوں تک نوبت پہنچاتا ہے۔خواہ مخواہ کہا جائے گا کہ یہ بے حیا ہے۔جو شخص قرآن شریف کے لئے غیرت نہیں رکھتا وہ کیا ہے؟غصہ خدا نے بے جا نہیں بنایا۔اس کا خراب استعمال بے جا ہے۔کسی نے حضرت عمرؓ سے پوچھا کہ کفر کے وقت تم بڑے غصہ والے تھے۔اب