ملفوظات (جلد 2) — Page 209
ہوجائے گا۔یہی دلیل صداقتِ نبوت محمدیہ مولوی آل حسن صاحب اور مولوی رحمت اللہ صاحب نے نصاریٰ کے سامنے پیش کی تھی جو وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے اور اب یہی دلیل قرآنی ہم اپنے دعویٰ کی صداقت میں پیش کرتے ہیں۔حافظ صاحب اور ان کے ساتھی اکبر بادشاہ کا نام لیتے ہیں مگر یہ ان کی سراسر غلطی ہے۔تَقَوَّلَ کے معنے ہیں کہ جھوٹا کلام پیش کرنا۔اگر اکبر بادشاہ نے ایسا دعویٰ کیا تھا تو اس کا کلام پیش کریں جس میں اس نے کہا ہو کہ مجھے خدا کی طرف سے یہ یہ الہامات ہوئے ہیں۔ایسا ہی روشن دین جالندھری اور دوسرے لوگوں کا نام لیتے ہیں مگر کسی کے متعلق یہ نہیں پیش کر سکتے کہ اس نے کون سے جھوٹے الہامات شائع کیے ہیں۔اگر کسی کے متعلق ثابت شدہ معتبر شہادت کے ساتھ حافظ صاحب یا ان کے ساتھی یہ ثابت کر دیں کہ اس نے جھوٹا کلام خدا پر لگایاحالانکہ خدا کی طرف سے وہ کلام نہ ہو اور پھر ایسا کرنے پر اس نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر عمر پائی ہو یعنی ایسے دعوے پر وہ ۲۳ سال زندہ رہا ہو تو ہم اپنی ساری کتابیں جلا دیں گے۔ہمارے ساتھ کینہ کرنے میں ان لوگوںنے ایسا غلو کیا ہے کہ اسلام پر ہنسی کرتے ہیں اور خدا کے کلام کے مخالف بات کرتے ہیں گو ان کی ایسی بات کرنے سے قرآن جھوٹا ہوتا ہو پھر بھی ہم کو جھٹلاتے ہیں مگر تعصّب بُرا ہے۔ایسی بات بولتے ہیں جس سے قرآن شریف پر زد ہو۔ہمارا تو کلیجہ کانپتا ہے کہ مسلمان ہو کر ایسا کرتے ہیں۔ایک تو وہ مسلمان تھے کہ بظاہر ضعیف حدیث میں بھی اگر سچائی پاتے تو اس کو قبول کرتے اور مخالفوںپر حجت میں پیش کرتے اور ایک یہ ہیں کہ قرآن کی دلیل کو نہیں مانتے۔ہم تو حافظ صاحب کو بلاتے ہیں کہ شائستگی سے،خلق ومحبت سے چند دن یہاںآکر رہیں۔ہم ان کا ہرجانہ دینے کو طیار ہیں۔نرمی سے ہمارے دلائل کو سنیں اور پھر اپنا اعتراض کریں۔مولوی احمداللہ صاحب کو بھی بے شک اپنے ساتھ لائیں۔بابو محمد صاحب نے عرض کی کہ حافظ محمد یوسف صاحب اعتراض کرتے تھے کہ مولوی عبد الکریم صاحب نے الحکم میں یہ کفر لکھا ہے کہ یہ وہ احمد عربی ہے۔فرمایا۔حافظ صاحب سے پوچھو کہ براہین احمدیہ میں جو میرا نام محمد لکھا ہے اور مسیح بھی لکھا ہے۔