ملفوظات (جلد 2) — Page 208
سے خد اتعالیٰ انبیاء کے ساتھ کلام کرتا آیا ہے۔سائل۔پھر علم کی تاویل نہیں ہوتی۔حضرت اقدس۔میں تو ابھی اس بیہودہ اصول کی حقیقت بتا چکا ہوں کہ اگر یہی مذہب رکھا جاوے پھر اسلام ہاتھ سے جاتا ہے کیونکہ مَسِّ شیطان کی حدیث کے رو سے تمہیں جو کہتے ہیں علم کی تاویل نہیں ہوتی ماننا پڑے گا کہ معاذ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مَسِّ شیطانی سے بَری نہیں۔کوئی مسلمان نہیں ہے جو یہ عقیدہ رکھ سکے۔سائل۔بس اب ہم نہیں پوچھتے۔حضرت اقدس۔ہم تو تھکتے نہیں مگر انصاف بھی تو ہونا چاہیے۔میں اگر خدا کا خوف نہ کرتا تو ہرگز یہ تبلیغ نہ کرتا۔اس کے بعد سائل اپنے رفقاء کو لے کر چلا گیا۔حضرت اقدسؑ اس کے بعد چند باتیں اسی کے متعلق فرماتے رہے۔پھر احباب اپنی اپنی جگہ جا کر سو رہے۔دوسرے دن حضرت اقدس علی الصباح مراجعت فرمائے دارالامان ہوئے اور کوئی گیارہ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب بخیریت دارالامان پہنچ گئے۔۱ ۱۹؍ جولائی ۱۹۰۱ ء صداقتِ نبوت کی ایک قرآنی دلیل حافظ محمد یوسف صاحب کا ذکر آیا کہ بعض باتوں پر اعتراض کرتے تھے۔فرمایا کہ ان کو تو سرے سے سب باتوں پر انکار ہے۔جبکہ قرآن شریف نے صداقت نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لَوْ تَقَوَّلَ والی دلیل پیش کی ہے اور حافظ صاحب اس سے انکار کرتے ہیں تو پھر کیا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) اگر تو اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر لوگوں کو سنائے اور اس کو میری طرف منسوب کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے حالانکہ وہ خدا کا کلام نہ ہو تو تُو ہلاک