ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 15

بہشت کے انعامات کی بے انتہا درازی کودیکھ کر مسرت بڑھتی ہے اور دوزخ کے ایک متعیّن عرصہ تک ہونے سے خدا تعالیٰ کے فرض پر امید پیدا ہوتی ہے۔ایک شاعر نے اس کو یوں بیان کیا ہے ؎ گویند کہ بحشر جستجو خواہد بود واں یار عزیز تندخو خواہد بود از خیر محض شرے نیاید ہرگز خوش باش کہ انجام بخیر خواہد بود ۱ معجزات کے اقسام معجزات مسیح ؑپر گفتگو کے سلسلہ میں فرمایاکہ معجزات تین قسم کے ہوتے ہیں۔دعا ئیہ، ارہاصیہ اور قوت قدسیہ کے معجزات۔ارہاصیہ میں دعا کو دخل نہیں ہوتا۔قوتِ قدسیہ کے معجزات ایسے ہوتے ہیں جیسے رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے پانی میںانگلیاں رکھ دی تھیں اور لوگ پانی پیتے چلے گئے یا کنوئیں میں لَب مبارک گرا دیا اور اس کا پانی میٹھا ہو گیا۔مسیح کے معجزات اس قسم کے بھی تھے۔خود ہم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔۲ علم توجہ اور توجہ انبیاء میں فرق توجہ اور انبیاء علیہم السلا م کی دعا میںعظیم الشان فرق ہوتا ہے۔وہ توجہ جو مسمر یزم والے کرتے ہیںوہ ایک کسب ہے اور وہ توجہ جو دعا سے پیدا ہوتی ہے ایک موہبتِ الٰہی ہے۔نبی جبکہ بنی نوع کی ہمدردی سے متاثر ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی فطرت کو ہمہ توجہ بنا دیتا ہے اور اس میں قبولیت کا نفخ رکھ دیتا ہے۔۳ ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۹۰۱ء صفحہ ۳ ۲ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۶ ؍ جولائی ۱۹۰۸ ء صفحہ ۳ ۳ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۹۰۱ ء صفحہ ۳ ، ۴