ملفوظات (جلد 2) — Page 14
نہیں۔دوم شیطان کے فرزند۔۱ ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۰۰ء ایک اہم پیش گوئی سیر میں علماء سوء کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ کوئی ایسا آدمی ہو جو ان کو جا کر سمجھا وے اور کہے کہ تم کوئی نشان مل کر صدق دل سے دیکھو۔پھر فرمایا۔یہ لوگ کم ہی امید ہے کہ رجوع کریں مگر جو آئندہ ذرّیّت ہو گی وہ ہماری ہی ہو گی۔۲ ۲۲؍اکتوبر ۱۹۰۰ء گوشت خوری چونکہ انسان جلالی جمالی دونوں رنگ رکھتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ گوشت بھی کھائے دال وغیرہ بھی کھائے۔۳ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۰۰ء دوزخ عارضی ہے اور بہشت دائمی صبح کی سیر میںبہشت ودوزخ کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ ہمارا ایمان ہے کہ دوزخ میں ایک عرصہ تک آدمی رہے گا پھر نکل آوے گا۔گویا جن کی اصلاح نبوت سے نہیں ہوسکی اُن کی اصلاح دوزخ کرے گی۔حدیث میں آیا ہے کہ دوزخ پر ایک ایسا زمانہ آوے گا کہ اس میں ایک آدمی بھی باقی نہ رہے گا اور نسیم صبا اس کے دروازوں کو کھٹکھٹائے گی۔اس کے علاوہ قرآن شریف نے بہشت کے انعامات کا تذکرہ کر کے عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ (ہود:۱۰۹) کہہ دیا ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے تھا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو امید نہ رہتی اور مایوسی پیدا ہوتی۔۱،۲الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۶ ؍ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ ۳ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ ؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۳