ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 202

آج انیس سو برس کے قریب گزر گئے ہیں وہی آئے گا اور وہ اپنی نبوت کے منصب سے معزول بھی نہیں کیا جاوے گا بلکہ نبی ہی ہوگا اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہ رہیں گے جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ وہ خاتم النبیین ہیں تو ایسی حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والی ہو ہرگز ہرگز نہیں مان سکتا۔اس کو بے شک موضوع کہوں گا اور اگر احادیث میں یہ نہیں لکھا گیا کہ وہ اسرائیلی نبی ہوگا بلکہ اسرائیلی مسیح اور محمدی مسیح کا حلیہ بھی الگ الگ بیان کیا گیا ہے اور اس کی آمد کو قرآن شریف کے خلاف نہیں ٹھہرایا گیا تو بے شک ایسی حدیثیں ماننے کے قابل ہیں مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا دعویٰ جو مسیح موعود کا ہے اس کی بنا قرآن شریف پر ہے اگرچہ یہ بالکل سچ ہے کہ صحیح حدیثیں جو قرآن شریف کے کبھی مخالف نہیںہوتی ہیں میرے اس دعوے کی مصدق ہیں مگرمیں اپنے دعویٰ کو قرآن شریف سے ثابت کرتا ہوں۔میرے آنے کی خبر قرآن شریف میں موجود ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ حدیث میں بھی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح فرمائی ہے۔۱ مہدی حسن۔میں صرف یہ پوچھتا ہوں کہ جب احادیث میں مسیح ابن مریم کا لفظ آیا ہے اور یہ علم ہے پھر اس کی تاویل آپ کیوں کرتے ہیں۔حضرت اقدس۔یہ تاویل خود ہم نے نہیں کی ہے بلکہ قرآن شریف نے اس کی حقیقت بتائی ہے۔جہاں یہ لکھا ہے وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا۔اِلٰی قَوْلِهٖ تعالٰی۔وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا (التّحریم: ۱۲ ، ۱۳) اس آیت میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ نے ایک مسیح ابن مریم کے اس اُمت میں پیدا ہونے کی خبر دے دی ہے اور یوں تو ایسا ہر مومن جو کتب اور کلمات اللہ کی تصدیق کرے اور قانتین اور عابدین میں سے ہو اور اپنے فروج کو محفوظ رکھے مریم کہلاتا ہے اور اس میں نفخ روح ہوکر وہ خود عیسیٰ ابن مریم بن جاتا ہے کیونکہ مریم کو تو بوجہ عورت ہونے کے نفخ روح سے حمل ہوگیا لیکن مَردوں کو تو حمل نہیں ہوتا۔اس لئے مَردوں میں اس نفخ کا نتیجہ