ملفوظات (جلد 2) — Page 203
یہ ہوتا ہے کہ وہ خود مسیح ہوجاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان آیتوں میں دو قسم کے آدمیوں کی مثال بیان کی ہے۔ایک وہ ہیں جو دفع شر کی درخواست کرتے ہیں۔دوسرے وہ ہیں جنہوں نے اپنی نیکیوں کو کمال تک پہنچایا ہے۔اوّل الذّکر وہ لوگ ہیں جو نفسِ لوّامہ کے نیچے ہیں اور اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا والے دوسرے ہیں۔اب سوچ کر بتاؤ کہ خدا نے جو یہ کہا کہ ہم اس میں اپنی روح پھونک دیتے ہیں۔کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ بھی مریم کی طرح حاملہ ہوجاتے ہیں۔سچ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں اس کی مثال دے کر بتا دیا ہے کہ اس امت محمدیہ میں جو مسیح موعود آنے والا ہے وہ اسی رنگ پر آئے گا۔احادیث میں اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ کہہ کر صاف کر دیا ہے اور یہاں فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا(التّحریم: ۱۳)رکھ دیا۔اس لئے مجھے ایک دفعہ مریم کا الہام ہوا یَا مَرْیَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْـجَنَّۃَ۔(بعض احمقوں نے اس پر اعتراض کیا تھا کہ مریم کے لحاظ سے اُسْکُنِیْ ہونا چاہیے تھا لیکن چونکہ یہاں مراد حضرت اقدس سے تھی۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اُسْکُنْ کا لفظ اختیار فرمایا۔کیونکہ یہ مریم اسی اطلاق کے موافق ہے۔جو سورہ تحریم کی اس آیت میں موجود ہے۔ایڈیٹر۔) اور پھر فَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا کا الہام بھی ہوچکا ہے۔غرض میر ا یہ دعویٰ قرآن کی بنا پر ہے اور خدا نے مجھ پر کھول دیا ہے کہ قرآن میں میرا وعدہ کیا گیا ہے اور میں نے کھول کھول کر بتا دیا ہے جو چاہے اس پر غور کرے۔سائل۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں کیوں کہا۔یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ مثیل مسیح آوے گا۔حضرت اقدس۔یہ اعتراض آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں نہ مجھ پر اور پھر یہ اعتراض بھی اپنی ناواقفی سے کرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صاف طورپر کھول کر کہہ دیا کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور قرآن ہی کے مطابق انہوں نے فرمایا کہ وہ ۱۲۰ برس کی عمر پاکر فوت ہوگئے اور آپ نے معراج کی رات ان کو مُردوں میں دیکھا۔پھر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر